شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 74 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 74

یا کوئی پینے کی چیز تھی آپ نے بڑے غصے سے اسکی طرف دیکھا تو تھا وہ ہوشیار قرآن کا بھی علم رکھتا تھا اور حاضر دماغ بھی تھا فوراً بولا وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ آپ نے کہا ٹھیک ہے غصہ دبا لیا۔اب اسکو خیال آیا کہ غصہ تو دبا لیا لیکن دل میں تو رہے گا کسی وقت کسی اور غلطی پر مارنہ پڑ جائے فورا بولا وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ۔آپ نے کہا ٹھیک ہے جاؤ معاف بھی کر دیا۔علم اور حاضر دماغی پھر کام آئی فوراً کہنے لگا وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ آپ نے کہا چلو جاؤ تمہیں آزاد بھی کرتا ہوں تو اس زمانہ میں غلام خریدے جاتے تھے اتنی آسانی سے آزادی نہیں ملتی تھی لیکن غلام کی حاضر دماغی اور علم اور مالک کا تقوی کام آیا اور آزادی مل گئی۔تو یہ ہے اسلام کی تمبر عفوو درگذر سے کام لو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایصال خیر کی اقسام کے بیان میں دوسری قسم ان اخلاق کی جو ایصال خیر سے تعلق رکھتے ہیں کے متعلق فرماتے ہیں: پہلا خلق ان میں سے عفو ہے۔یعنی کسی کے گناہ کو بخش دینا۔اس میں ایصال خیر یہ ہے کہ جو گناہ کرتا ہے وہ ایک ضرر پہنچاتا ہے اور اس لائق ہوتا ہے کہ اس کو بھی ضرر پہنچایا جائے سزا دلائی جائے، قید کرایا جائے ، جرمانہ کرایا جائے یا آپ ہی اس پر ہاتھ اُٹھایا جائے۔پس اس کو بخش دینا اگر بخش دینا مناسب ہو تو اُس کے حق میں ایصال خیر ہے۔اس میں قرآن شریف کی تعلیم یہ ہے وَالْكَاظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ (1) جَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ 74