شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 61
اور تمہارے لئے باغات بنائے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کرے گا۔فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا﴾ (النصر آیت (۴) پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ (اس کی تسبیح کر اور اُس سے مغفرت مانگ۔یقیناً وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔اس بارہ میں ایک حدیث ہے۔ابی بردہ بن ابی موسیٰ اپنے والد ابو موسی " کے حوالہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے مجھ پر میری امت کو دو امانتیں دینے کے بارہ میں وحی نازل کی جو یہ ہیں۔﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيْهِمْ وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ ﴾ (الانفال آیت (۳۴) یعنی اللہ ایسا نہیں کہ انہیں عذاب دے جب تک تو ان میں موجود ہو اور اللہ ایسا نہیں کہ انہیں عذاب دے جبکہ وہ بخشش طلب کرتے ہوں۔پس جب میں ان سے الگ ہوا تو میں نے ان میں قیامت تک کے لئے استغفار چھوڑا۔(جامع ترمذى كتاب تفسير القرآن تفسير سورة الانفال) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جو شخص استغفار کو چمٹارہتا ہے ( یعنی استغفار کرتا رہتا ہے ) اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر تنگی سے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے اور اس کی ہر مشکل سے اس کی کشائش کی راہ پیدا کر دیتا ہے اور اسے ان راہوں سے رزق عطا کرتا ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا۔(سنن ابی داؤد كتاب الوتر۔باب في الاستغفار ) وو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :۔۔۔استغفار جس کے ساتھ ایمان کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں قرآن شریف 61