شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 178 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 178

کہ جب ایک جنگ کے دوران حضرت عمرؓ نے جنگ کی کمان حضرت خالد بن ولید سے لے کر حضرت ابو عبیدہ کے سپرد کر دی تھی۔تو حضرت ابو عبیدہ نے اس خیال سے کہ خالد بن ولید بہت عمدگی سے کام کر رہے ہیں ان سے چارج نہ لیا۔تو جب حضرت خالد بن ولید کو یہ علم ہوا کہ حضرت عمر کی طرف سے یہ حکم آیا ہے تو آپ حضرت ابوعبیدہ کے پاس گئے اور کہا کہ چونکہ خلیفہ وقت کا حکم ہے اس لئے آپ فوری طور پر اس کی تعمیل کریں۔مجھے ذرا بھی پروا نہیں ہوگی کہ میں آپ کے ماتحت رہ کر کام کروں۔اور میں اسی طرح آپ کے ماتحت کام کرتا رہوں گا جیسے میں بطور ایک کمانڈ ر کام کر رہا ہوتا تھا۔تو یہ ہے اطاعت کا معیار۔کوئی سر پھرا کہہ سکتا ہے کہ حضرت عمر “ کا فیصلہ اس وقت غیر معروف تھا، یہ بھی غلط خیال ہے۔ہمیں حالات کا نہیں پتہ کس وجہ سے حضرت عمر نے یہ فیصلہ فرمایا یہ آپ ہی بہتر جانتے تھے۔بہر حال اس فیصلہ میں ایسی کوئی بات ظاہر بالکل نہیں تھی جو شریعت کے خلاف ہو۔چنانچہ آپ دیکھ لیں کہ حضرت عمرؓ کے اس فیصلہ کی لاج بھی اللہ تعالیٰ نے رکھی اور یہ جنگ جیتی گئی اور باوجود اس کے جیتی گئی کہ اس جنگ میں بعض دفعہ ایسے حالات آئے کہ ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میں سو سو دشمن کے فوجیوں کی تعداد ہوتی تھی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اپنے آقا کی غلامی میں ، ایسی غلامی جس کی نظیر نہیں ملتی ، حکم اور عدل کا درجہ ملا ہے اس لئے اب اس زمانہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت اور محبت سے ہی حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کی اطاعت اور محبت کا دعوی سچا ہو سکتا ہے اور آنحضرت ﷺ کی اتباع سے ہی 178