شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 174
ہیں۔لیکن کچھ افراد آگ میں کودنے کے لئے تیار ہو گئے۔آنحضرت علام اس بات کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس میں کود جاتے تو ہمیشہ آگ میں ہی رہتے۔نیز فرمایا : اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے رنگ میں کوئی اطاعت واجب نہیں۔اطاعت صرف معروف امور میں ضروری ہے۔(سنن ابو داؤد - کتاب الجہاد) اس حدیث کی مزید وضاحت حضرت ابوسعید خدری کی روایت سے ملتی ہے۔صلى الله حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ علی نے علقمہ بن مُجزّز کو ایک غزوہ کے لئے روانہ کیا جب وہ اپنے غزوہ کی مقررہ جگہ کے قریب پہنچے یا ابھی وہ رستہ ہی میں تھے کہ ان سے فوج کے ایک دستہ نے اجازت طلب کی۔چنانچہ انہوں نے ان کو اجازت دے دی اور ان پر عبد اللہ بن حذافہ بن قیس السهمـی کو امیر مقرر کر دیا۔میں بھی اس کے ساتھ غزوہ پر جانے والوں میں سے تھا۔پس جب کہ ابھی وہ رستہ میں ہی تھے تو ان لوگوں نے آگ سینکنے یا کھانا پکانے کے لئے آگ جلائی تو عبد اللہ نے (جن کی طبیعت مزاحیہ تھی ) کہا کیا تم پر میری بات سن کر اس کی اطاعت فرض نہیں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ؟ اس پر عبد اللہ بن حذافہ نے کہا: کیا میں تم کو جو بھی حکم دوں گا تم اس کو بجالاؤ گے؟ انہوں نے کہا۔ہاں ہم بجالائیں گے۔اس پر عبد اللہ بن حذافہ نے کہا میں تمہیں تا کیدا کہتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود پڑو۔اس پر کچھ لوگ کھڑے ہو کر آگ میں کودنے کی تیاری کرنے لگے۔پھر جب عبداللہ بن حذافہ نے دیکھا کہ یہ تو سچ مچ آگ میں کودنے لگے ہیں تو عبد اللہ بن حذافہ نے کہا اپنے آپ کو ( آگ میں ڈالنے سے ) روکو۔174