شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 168
ہور ہا بلکہ تم اقرار کر رہے ہو کہ آنے والے مسیح کو ماننے کا خدا اور رسول کا حکم ہے۔اس لئے یہ تعلق اللہ تعالیٰ کی خاطر قائم کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے دین کی سر بلندی اور اسلام کو اکناف عالم میں پہنچانے کے لئے ، پھیلانے کے لئے رشتہ جوڑ رہے ہیں۔اس لئے یہ تعلق اس اقرار کے ساتھ کامیاب اور پائیدار ہوسکتا ہے جب معروف باتوں میں اطاعت کا عہد بھی کرو اور پھر اس عہد کو مرتے دم تک نبھاؤ۔اور پھر یہ خیال بھی رکھو کہ یہ تعلق یہیں ٹھہر نہ جائے بلکہ اس میں ہر روز پہلے سے بڑھ کر مضبوطی آنی چاہئے اور اس میں اس قدر مضبوطی ہو اور اس کے معیار اتنے اعلیٰ ہوں کہ اس کے مقابل پر تمام دنیاوی رشتے تعلق ، دوستیاں بیچ ثابت ہوں۔ایسا بے مثال اور مضبوط تعلق ہو کہ اس کے مقابل پر تمام تعلق اور رشتے بے مقصد نظر آئیں۔پھر فرمایا کہ یہ خیال دل میں پیدا ہوسکتا ہے کہ رشتہ داریوں میں کبھی کچھ لو اور کچھ دو، کبھی مانو اور کبھی منواؤ کا اصول بھی چل جاتا ہے۔تو یہاں یہ واضح ہو کہ تمہارا یہ تعلق غلامانہ اور خادمانہ تعلق بھی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہونا چاہئے۔تم نے یہ اطاعت بغیر چون و چرا کئے کرنی ہے۔کبھی تمہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ یہ کہنے لگ جاؤ کہ یہ کام ابھی نہیں ہوسکتا ، یا ابھی نہیں کر سکتا۔جب تم بیعت میں شامل ہو گئے ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے نظام میں شامل ہو گئے ہو تو پھر تم نے اپنا سب کچھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دے دیا اور اب تمہیں صرف ان کے احکامات کی پیروی کرنی ہے، ان کی تعلیم کی پیروی کرنی ہے۔اور آپ کے بعد چونکہ نظام خلافت قائم ہے اس لئے خلیفہ وقت کے احکامات کی ، ہدایات کی پیروی کرنا تمہارا کام ہے۔لیکن یہاں یہ خیال نہ رہے کہ خادم اور نوکر کا کام تو مجبوری ہے، 168