شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 141
اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ پھر فرمایا وَمَنْ أَحْسَنُ دِينَا مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيْمَ حَنِيفًا ۖ وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيْلًا﴾ (النساء آیت ۱۲۲) اور دین میں اس سے بہتر کون ہو سکتا ہے جو اپنی تمام تر توجہ اللہ کی خاطر وقف کر دے اور وہ احسان کرنے والا ہو اور اس نے ابراہیم حنیف کی ملت کی پیروی کی ہو اور اللہ نے ابراہیم کو دوست بنالیا تھا۔اس آیت میں اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ہے۔یعنی مکمل فرمانبرداری اور اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کرنے ، اس کے دین کی خاطر اپنے آپ کو وقف کرنے اور احسان کرنے والا ہو۔پس چونکہ وہ اللہ کی خاطر احسان کرنے والا ہوگا اس لئے کسی کو یہ خیال نہیں آنا چاہئے کہ اگر ہر وقت وہ دین کی طرف اور دین کی خدمت کی طرف رہا تو اس کا مال یا اولا د ضائع ہو جائے گی۔نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ جو سب سے بڑھ کر بدلہ دینے والا ہے، اجر دینے والا ہے، اس کے اس فعل کا خود اجر دے گا۔جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا گیا ہے کہ خود اس کے جان ، مال ، آبرو کی حفاظت کرے گا۔ایسے لوگوں کو ، ان کی نسلوں کو بھی اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴾ (1)۔(۱) البقرة آیت ۱۱۳۔141