شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 140
وَذَلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَةِ﴾ (سورة البينه آیت)۔اور وہ کوئی حکم نہیں دیئے گئے سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، دین کو اُس کے لئے خالص کرتے ہوئے ، ہمیشہ اس کی طرف جھکتے ہوئے ، اور نماز کو قائم کریں اور زکوۃ دیں۔اور یہی قائم رہنے والی اور قائم رکھنے والی تعلیمات کا دین ہے۔پس نمازوں کو قائم کرنے سے یعنی با جماعت اور وقت پر نماز پڑھنے سے، اس کی راہ میں خرچ کرنے سے ،غریبوں کا خیال رکھنے سے بھی ہم صحیح دین پر قائم ہو سکتے ہیں۔اور ان تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا سکتے ہیں ، اپنی زندگیوں پر لاگو کر سکتے ہیں جب ہم اللہ کی عبادت کریں گے ، اس کی دی ہوئی تعلیم پر عمل کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دیگا ، ہمارے ایمانوں کو اس قدر مضبوط کر دے گا کہ ہمیں اپنی ذات، اپنی خواہشات، اپنی اولادیں، دین کے مقابلے میں بیچ نظر آنے لگیں گی۔تو جب سب کچھ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کیلئے ہو جائے گا اور ہمارا اپنا کچھ نہ رہے گا تو اللہ تعالیٰ پھر ایسے لوگوں کو ضائع نہیں کرتا۔وہ ان کی عزتوں کی بھی حفاظت کرتا ہے ، ان کی اولادوں کی بھی حفاظت کرتا ہے، ان میں برکت ڈالتا ہے، ان کے مال کو بھی بڑھاتا ہے اور ان کو اپنی رحمت اور فضل کی چادر میں ہمیشہ لپیٹے رکھتا ہے اور ان کے ہر قسم کے خوف دور کر دیتا ہے۔جیسا کہ فرمایا: بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ﴾ (البقره آیت ۱۱۳)۔نہیں نہیں، سچ یہ ہے کہ جو بھی اپنا آپ خدا کے سپر د کر دے اور وہ احسان کرنے والا ہو تو اس کا اجراسکے ربّ کے پاس ہے اور اُن (لوگوں) پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔140