شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 138
خدا تعالی ذات کو نہیں پوچھے گا۔اگر تم کوئی برا کام کروگی تو خدا تعالی تم سے اس واسطے درگزر نہ کرے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہو۔پس چاہیئے کہ تم ہر وقت اپنا کام دیکھ کر کیا کرو“۔(ملفوظات جلد سوم صفحه ۳۷۰۔جدید ایڈیشن) پھر آپ فرماتے ہیں: ”اہل تقویٰ کے لیے یہ شرط تھی کہ وہ غربت اور مسکینی میں اپنی زندگی بسر کرے یہ ایک تقویٰ کی شاخ ہے جس کے ذریعہ ہمیں غضب ناجائز کا مقابلہ کرنا ہے۔بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لیے آخری اور کڑی منزل غضب سے ہی بچنا ہے۔عجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے۔اور ایسا ہی کبھی خود ے غضب عجب و پندار کا نتیجہ ہوتا ہے کیونکہ غضب اس وقت ہوگا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے۔“ رپورٹ جلسه سالانه ۱۸۹ء صفحه ۴۹) آپ فرماتے ہیں: " تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم سے خدا راضی ہو تو تم باہم ایسے ایک ہو جاؤ جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی۔تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے اور بد بخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشتا سواس کا مجھ میں حصہ نہیں۔“ (کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۲۔۱۳) 138