شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 137 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 137

مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ، مجھے مسکینی کی حالت میں موت دے اور مجھے مسکینوں کے گروہ ہی سے اٹھانا۔(ابن ماجه كتاب الزهد باب مجالسة الفقراء) پس ہر احمدی کو بھی وہی راہ اختیار کرنی چاہئے ، ان راہوں پر قدم مارنا چاہئے جن پر ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی علیہ چل رہے ہیں۔ہر احمدی کو اپنے آپ کو مسکینوں کی صف میں ہی رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ یہی عہد بیعت ہے کہ مسکینی سے زندگی بسر کروں گا۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ جعفر بن ابی طالب مساکین سے بہت محبت کرتے تھے۔ان کی مجلسوں میں بیٹھتے تھے۔وہ ان سے باتیں کرتے اور مساکین ان سے باتیں کرتے۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ حضرت جعفر کو ابوالمساکین کی کنیت سے پکارا کرتے تھے۔(ابن ماجه كتاب الزهد باب مجالسة الفقراء) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :- اگر اللہ تعالیٰ کو تلاش کرنا ہے تو مسکینوں کے دل کے پاس تلاش کرو۔اسی لیے پیغمبروں نے مسکینی کا جامہ ہی پہن لیا تھا۔اسی طرح چاہیئے کہ بڑی قوم کے لوگ چھوٹی قوم کو ہنسی نہ کریں اور نہ کوئی یہ کہے کہ میرا خاندان بڑا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میرے پاس جو آؤ گے تو یہ سوال نہ کروں گا کہ تمہاری قوم کیا ہے۔بلکہ سوال یہ ہو گا کہ تمہارا عمل کیا ہے۔اسی طرح پیغمبر خدا نے فرمایا ہے اپنی بیٹی سے کہ اے فاطمہ 137