شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 134
اطاعت کرنا نہیں چاہتا اس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔اور وہ جو خدا کے مامور اور مُرسل کی باتوں کو غور سے نہیں سنتا اور اس کی تحریروں کو غور سے نہیں پڑھتا اس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔سو کوشش کرو کہ کوئی حصہ تکبر کا تم میں نہ ہوتا کہ ہلاک نہ ہو جاؤ تا تم اپنے اہل و عیال سمیت نجات پاؤ۔خدا کی طرف جھکو اور جس قدر دنیا میں کسی سے محبت ممکن ہے تم اس سے کرو اور جس قدر دنیا میں کسی سے انسان ڈرسکتا ہے تم اپنے خدا سے ڈرو۔پاک دل ہو جاؤ اور پاک ارادہ اور غریب اور مسکین اور بے شر تاتم پر رحم ہو۔"❝ (نزول المسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۰۳۔۴۰۲) پھر دوسری بات جو اس شرط میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کروں گا۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ جب آپ اپنے دل و دماغ کو تکبر سے خالی کرنے کی کوشش کریں گے ، خالی کریں گے تو پھر لازماً ایک اعلیٰ وصف ،ایک اعلیٰ صفت ، ایک اعلیٰ خُلق اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا ور نہ پھر شیطان حملہ کرے گا کیونکہ وہ اسی کام کے لئے بیٹھا ہے کہ آپ کا پیچھا نہ چھوڑے۔وہ خُلق ہے عاجزی اور مسکینی۔اور یہ ہو نہیں سکتا کہ عاجز اور متکبر اکٹھے رہ سکیں۔متکبر لوگ ہمیشہ ایسے عاجز لوگوں پر جو عبادالرحمن ہوں طعنہ زنیاں کرتے رہتے ہیں ، فقرے کستے رہتے ہیں تو ایسے لوگوں کے مقابل پر آپ نے ان جیسا رویہ نہیں اپنا نا۔بلکہ خدا تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرنا ہے فرمایا: ﴿وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِيْنَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُوْنَ قَالُوْا 134)