شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 135
سلمًا ﴾ (الفرقان آیت ۶۳) اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو ( جوابا) کہتے ہیں ” سلام“۔حضرت ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ آنحضور نے فرمایا جس نے اللہ کی خاطر ایک درجہ تواضع اختیار کی اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ رفع کرے گا یہاں تک کہ اسے علیین میں جگہ دے گا، اور جس نے اللہ کے مقابل ایک درجہ تکتبر اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ نیچے گرا دے گا یہاں تک کہ اسے اسفل السافلین میں داخل کر دے گا۔(مسند احمد بن حنبل، باقي مسند المكثرين من الصحابة) ایسے لوگوں کی مجالس سے سلام کہہ کر اٹھ جانے میں ہی آپ کی بقا، آپ کی بہتری ہے کیونکہ اسی سے آپ کے درجات بلند ہورہے ہیں اور مخالفین اپنی انہی باتوں کی وجہ سے اسفل السافلین میں گرتے چلے جارہے ہیں۔پھر حدیث میں آیا ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ کا بندہ جتنا کسی کو معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اتنا ہی زیادہ اسے عزت میں بڑھاتا ہے۔جتنی زیادہ کوئی تواضع اور خاکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اتنا ہی اسے بلند مرتبہ عطا کرتا ہے۔(مسلم كتاب البرو الصلة باب استحباب العفو والتواضع) صلى الله عیاذ بن حمار بن مجاشع کے بھائی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ علی ہمارے درمیان خطاب کرتے ہوئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی 135