شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 92

جھکوں تو بڑے فوائد حاصل کر سکتا ہوں۔دنیاوی قو تیں بھی لالچ دے رہی ہوتی ہیں کہ کوئی بات نہیں۔احمدی ہوتے ہوئے جماعت سے تعلق رکھتے ہوئے بھی تم یہ کام کرلو۔یہ کاروبار کرلو اس سے تم اپنے حالات بھی بہتر کرلو گے پھر جماعت کی خدمت بھی چندے دے کر کر لو گے۔تو یہ سب دجالی فتنے ہیں جماعت سے دور کرنے کے، خدا سے دور کرنے کے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تم نے بیعت کی ہے تو پھر ان چکروں میں نہ پڑو۔اس دھو کے سے دور رہو۔خدا سے وفاداری کا نمونہ دکھاؤ۔اس کی طرف جھکو تو تم میرے ہو اور تمہیں سب کچھ مل جائے گا۔اس بارہ میں آنحضرت کی بڑی پیاری نصیحت ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جبکہ میں آنحضرت کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا۔آپ نے فرمایا اے برخوردار میں تجھے چند باتیں بتاتا ہوں اول یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کا خیال رکھ، اللہ تعالیٰ تیرا خیال رکھے گا۔تو اللہ تعالیٰ پر نگاہ رکھ تو اسے اپنے پاس پائے گا۔جب کوئی چیز مانگنی ہوتو اللہ تعالی سے مانگ اور جب تو مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر اور سمجھ لے کہ اگر سارے لوگ اکٹھے ہو کر تجھے فائدہ پہنچانا چاہیں تو وہ تجھے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے کہ اللہ چاہے اور تیری قسمت میں فائدہ لکھ دے۔اور اگر وہ تجھے نقصان پہنچانے پر اتفاق کر لیں تو تجھے نقصان نہیں پہنچا سکیں گے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ تیری قسمت میں نقصان لکھ دے۔قلمیں اٹھا کر رکھ دی گئی ہیں اور صحیفہ تقدیر خشک ہو چکا ہے۔92