شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 179
اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعوی سچ ہو سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبَبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ - وَاللَّهُ غَفُوْرٌ رَّحِيمٌ (آل عمران آیت (۳۲) تو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔اور اللہ بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ پایا وہ آنحضرت ﷺ کی پیروی کیوجہ سے ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: صلى الله میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی اور میرے لئے اس نعمت کا پا نا ممکن نہ تھا اگر میں اپنے سید ومولی فخر الانبیاء اور خیر الوریٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی راہوں کی پیروی نہ کرتا۔سو میں نے جو کچھ پایا اس پیروی سے پایا اور میں اپنے سچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اس نبی علی کے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کا ملہ کا حصہ پاسکتا ہے۔اور میں اس جگہ یہ بھی بتلا تا ہوں کہ وہ کیا چیز ہے جو سچی اور کامل پیروی آنحضرت ﷺ کے بعد سب باتوں سے پہلے دل میں پیدا ہوتی ہے۔سو یادر ہے کہ وہ قلب سلیم ہے یعنی دل سے دنیا کی محبت نکل جاتی ہے اور دل ایک ابدی اور لازوال لذت کا طالب ہو جاتا ہے پھر بعد اس کے ایک مصفی اور کامل محبت الہی بباعث اس قلب سلیم کے حاصل ہوتی ہے اور یہ 179