شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 180
سب نعمتیں آنحضرت ﷺ کی پیروی سے بطور وراثت ملتی ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے ﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ﴾ () یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے۔بلکہ یکطرفہ محبت کا دعوی بالکل ایک جھوٹ اور لاف و گزاف ہے۔جب انسان سچے طور پر خدا تعالیٰ سے محبت کرتا ہے تو خدا بھی اس سے محبت کرتا ہے تب زمین پر اس کے لئے ایک قبولیت پھیلائی جاتی ہے اور ہزاروں انسانوں کے دلوں میں ایک سچی محبت اس کی ڈال دی جاتی ہے اور ایک قوت جذب اس کو عنایت ہوتی ہے اور ایک ٹو راس کو دیا جاتا ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔جب ایک انسان سچے دل سے خدا سے محبت کرتا ہے اور تمام دنیا پر اس کو اختیار کر لیتا ہے اور غیر اللہ کی عظمت اور وجاہت اس کے دل میں باقی نہیں رہتی بلکہ سب کو ایک مرے ہوئے کیڑے سے بھی بدتر سمجھتا ہے تب خدا جو اس کے دل کو دیکھتا ہے ایک بھاری تجلبی کے ساتھ اُس پر نازل ہوتا ہے اور جس طرح ایک صاف آئینہ میں جو آفتاب کے مقابل پر رکھا گیا ہے آفتاب کا عکس ایسے پورے طور پر پڑتا ہے کہ مجاز اور استعارہ کے رنگ میں کہہ سکتے ہیں کہ وہی آفتاب جو آسمان پر ہے اس آئینہ میں بھی موجود ہے ایسا ہی خدا ایسے دل پر اترتا ہے اور اس دل کو اپنا عرش بنالیتا ہے۔یہی وہ امر ہے جس کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔“ (حقيقة الوحي، روحانی خزائن جلد نمبر ۲۲۔صفحه ۶۵،۶۴) پس اس محبت و عشق کی وجہ سے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ سے تھا اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاک دل کو بھی اپنا عرش بنایا۔(1) آل عمران آیت ۳۲۔180