شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 108
دو حضرت اقدس مسیح موعود فر ماتے ہیں: جب تک انسان سچا مجاہدہ اور محنت نہیں کرتا وہ معرفت کا خزانہ جو اسلام میں رکھا ہوا ہے اور جس کے حاصل ہونے پر گناہ آلود زندگی پر موت وارد ہوتی ہے انسان خدا تعالیٰ کو دیکھتا ہے اور اس کی آواز میں سنتا ہے اسے نہیں مل سکتا۔چنانچہ صاف طور پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأوای (۱)۔یہ تو سہل بات ہے کہ ایک شخص متکبرانہ طور پر کہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہوں اور باوجود اس دعوی کے اس ایمان کے آثار اور ثمرات کچھ بھی پیدا نہ ہوں یہ نری لاف زنی ہوگی ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی کچھ پرواہ نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ بھی ان کی پرواہ نہیں کرتا“۔(الحكم جلد 9 نمبر 29 مورخه 17 اگست 1905ء صفحه 6) پھر آپ فرماتے ہیں: ” جو کوئی اپنے رب کے آگے کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اور اپنے نفس کی خواہشوں کو روکتا ہے تو جنت اسکا مقام ہے۔ہوائے نفس کو روکنا یہی فنافی اللہ ہونا ہے اور اس سے انسان خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کر کے اسی جہان میں مقام جنت کو پہنچ سکتا ہے“ (بدر جلد نمبر 1 مورخه 3/ اگست 1905ء صفحه2) اسلامی تعلیم کے لئے ہمارا را ہنما قرآن شریف ہے پس رسم و رواج سے بچنا اور ہوا ہوس سے بچنا اسلامی تعلیم کا حصہ ہے اور (1) النازعات آیت ۴۱ 108