شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 29
51 50 50 نکلا تھا انہوں نے یا تو بہت ہلکے پھلکے ہتھیار پہنے ہوئے تھے یعنی ان کے پاس زر ہیں وغیرہ اور بڑا اسلحہ نہیں تھا اور ان میں بہت سے ایسے بھی تھے جو بالکل نہتے تھے لیکن اس کے مقابل پر ہوازن کے لوگ بڑے کہنہ مشق تیرانداز تھے۔جب مسلمانوں کا لشکر ان کی طرف بڑھا تو انہوں نے اس لشکر پر تیروں کی ایسی بوچھاڑ کر دی جیسے ٹڈی دل کھیتوں پر حملہ کرتی ہے۔اس حملہ کی تاب نہ لا کر مسلمان بکھر گئے لیکن ان کا ایک گروہ آنحضرت ملالہ کی طرف بڑھا۔حضور ایک خچر پر سوار تھے جسے آپ کے چا ابوسفیان بن حارث لگام سے پکڑے ہوئے ہانک رہے تھے۔جب حضور نے مسلمانوں کو اس طرح بکھرتے ہوئے دیکھا تو آپ کچھ وقفہ کے لئے اپنی نچر سے اترے اور اپنے مولیٰ کے حضور دعا کی۔پھر آپ خچر پر سوار ہو کر مسلمانوں کو مدد کے لئے بلاتے ہوئے دشمن کی طرف بڑھے اور آپ یہ شعر پڑھتے جاتے تھے۔أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ میں خدا کا نبی ہوں اور یہ ایک سچی بات ہے۔لیکن ”میری غیر معمولی جرات دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ میں کوئی فوق البشر چیز ہوں نہیں میں وہی عبد المطلب کا بیٹا محمد ہوں۔“ اور آپ یہ دعا کرتے جاتے تھے۔اللَّهُمْ نَزِلُ نَصْرَكَ اے خدا اپنی مدد نازل کر۔پھر حضرت براڑ نے کہا کہ حضور کی شجاعت کا حال سنو۔جب جنگ جو بن پر ہوتی تھی تو اس وقت حضور سب سے آگے ہو کر سب سے زیادہ بہادری سے لڑ رہے ہوتے تھے اور ہم لوگ تو اس وقت حضور کو ہی اپنی ڈھال اور اپنی آڑ بنایا کرتے تھے اور ہم میں سے سب سے زیادہ وہی بہادر سمجھا جاتا تھا جو حضور کے شانہ بشانہ لڑتا تھا۔( صحیح مسلم کتاب الجہاد باب فتح مکہ ) حضور عزم بے مثال ملاقہ جنگ احد سے پہلے خواب میں دیکھ چکے تھے کہ آپ کے کسی عزیز کا نقصان ہوگا یا آپ کی ذات کو گزند پہنچے گا اور کچھ صحابی بھی شہید ہوں گے۔آپ منشاء الہی کے ماتحت صحابہ سے مشورہ کرتے ہیں۔نوجوان صحابہ جوش و اخلاص میں مدینہ سے باہر نکل کر لڑنے کا مشورہ دیتے ہیں۔حضور مقالہ ہتھیار پہن لیتے ہیں۔اب نوجوان صحابہ کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا اور وہ معذرت خواہ تھے لیکن خدا کے نبی مطالعہ نے فرمایا۔نبی ہتھیار پہن کر اتارتا نہیں۔“ ی تھی آپ کی بے مثال شجاعت اور یہی زندہ قوموں کا شیوہ ہونا چاہئے کہ جب عزم کر لیں تو (سیرت ابن ہشام جلد 3 صفحہ 6) پھر تذبذب کیا۔اسے آنے دو جنگ اُحد میں آپ شدید زخمی ہوئے۔چہرہ مبارک لہولہان تھا۔ابی بن خلف ایک کافر مدت سے تیاری کر رہا تھا۔اس نے ایک گھوڑا پالا ہی اس لئے تھا۔اس کو روزانہ جوار کھلاتا کہ اس پر چڑھ کر محمد متلاقہ تو قتل کروں گا ( نعوذ باللہ ) اس بدبخت کی نظر جب حضور پر پڑی تو گھوڑے کو ایڑھ لگا کر آگے آیا اور یہ نعرہ لگایا اگر حمد ( متلاقہ ) بچ جائیں تو میری زندگی عبث ہے۔صحابہ نے یہ دیکھا تو حضور ملالہ اور اس کے درمیان حائل ہونا چاہا۔حضور نے فرمایا ہٹ جاؤ سے آنے دو اور میرے زخمی آقا نے جن کے زخم سے ابھی خون رس رہا تھا نیزہ تھام کر اس کی گردن پر وار کیا۔وہ چنگھاڑتا ہوا واپس مڑا۔کسی نے کہا بھئی معمولی زخم ہے کیا چیختا اور واویلا کرتا ہے۔اس نے کہا یہ معمولی زخم نہیں محمد ( متلاقہ ) کا لگایا ہوا ہے۔(سیرۃ ابن ہشام زیر عنوان قتل ابی بن خلف جلد 3 صفحہ 89) www۔alislam۔org