شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم

by Other Authors

Page 28 of 54

شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 28

49 48 کی اور خدا سے فیصلہ چاہا۔راوی کہتا ہے کہ پھر میں نے دیکھا کہ یہ سب لوگ بدر کے دن مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہو کر وادی بدر کی ہوا کو متعفن کر رہے تھے۔( صحیح بخاری باب بنیان الکعبه باب مالتی النبی مکتاب المغازی باب دعاء النبی علی کفار قریش) پہلا شہید ایک اور موقعہ پر آپ نے صحن کعبہ میں توحید کا اعلان کیا تو قریش جوش میں آ کر آپ کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے اور ایک ہنگامہ برپا کر دیا۔آپ کے ربیب یعنی حضرت خدیجہ کے فرزند حارث بن ابی ہالہ کو اطلاع ہوئی تو وہ بھاگے آئے اور خطرہ کی صورت پا کر آپ کو قریش کی شرارت سے بچانا چاہا۔مگر اس وقت بعض نوجوانان قریش کے اشتعال کی یہ کیفیت تھی کہ کسی بد باطن نے تلوار چلا کر حارث کو وہیں ڈھیر کر دیا۔اور اس وقت کے شور و شغب میں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ تلوار چلانے والا کون تھا۔(الاصابہ ذکر حارث) ایک دفعہ آپ ایک راستہ پر چلے جاتے تھے کہ ایک شریر نے برسر عام آپ کے سر پر خاک ڈال دی۔ایسی حالت میں آپ گھر تشریف لائے۔آپ کی صاحبزادی نے یہ دیکھا تو جلدی سے پانی لے کر آئیں اور آپ کا سر دھویا۔اور زار زار رونے لگیں۔آنحضرت ملالہ نے ان کو تسلی دی اور فرمایا:۔بیٹی رونہیں۔اللہ تیرے باپ کی خود حفاظت کرے گا اور یہ سب تکلیفیں دور ہو جائیں گی۔“ ( تاریخ طبری جلد 2 صفحہ 80 مطبع استقامه قاهره 1939ء) ☆☆☆ -20 شجاعت اور عزم خطرہ میں سب سے آگے حضرت انس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم مطالعہ سب انسانوں سے زیادہ خوبصورت تھے اور سب انسانوں سے زیادہ بہادر تھے۔ایک رات اہل مدینہ کو خطرہ محسوس ہوا کسی طرف سے کوئی آواز آئی تھی ) لوگ آواز کی طرف دوڑے تو سامنے سے نبی کریم ملاقہ ان کو آتے ملے آپ بات کی چھان بین کر کے واپس آرہے تھے حضرت ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار تھے۔گھوڑے کی پیٹھ منگی تھی اور آپ نے اپنی گردن میں تلوار لٹکائی ہوئی تھی۔لوگوں کو سامنے سے آتے دیکھا تو فرمایا ڈرو نہیں میں دیکھ آیا ہوں کوئی خطرہ کی بات نہیں۔پھر آپ نے ابوطلحہ کے گھوڑے کے متعلق فرمایا ہم نے اس کو تیز رفتاری میں سمندر جیسا پایا۔یا یہ فرمایا کہ یہ تو سمندر ہے۔اشجع الناس (صحیح بخاری کتاب الجہاد باب الحمائل) ابو اسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک شخص حضرت براڈ کے پاس آیا اور آپ سے پوچھا کہ اے ابو عمارہ کیا آپ لوگوں نے جنگ حنین کے موقع پر دشمن کے مقابل پر پیٹھ پھیر لی تھی تو انہوں نے جواب دیا کہ میں سب کے بارہ میں تو کچھ نہیں کہ سکتا لیکن میں آنحضرت ملالہ کے بارہ میں ضرور گواہی دوں گا کہ آپ نے دشمن کے شدید حملہ کے وقت بھی پیٹھ نہیں پھیری تھی۔پھر انہوں نے کہا اصل بات یہ ہے کہ ہوازن قبیلہ کے خلاف جب مسلمانوں کا لشکر www۔alislam۔org