شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 53
99 98 -41 دشمن کے مذہبی حقوق کا خیال تو رات واپس کرادی فتح خیبر کے دوران تو رات کے بعض نسخے بھی مسلمانوں کو ملے۔یہودی آنحضرت کی نے خدمت میں حاضر ہوئے کہ ہماری کتاب مقدس ہمیں واپس کی جائے اور رسول کریم صل اللہ صحابہ کوحکم دیا کہ یہود کی مذہبی کتابیں ان کو واپس کر دو۔مذہبی رواداری کی یہ کتنی عظیم الشان مثال ہے۔( السيرة الحلبیہ جلد 3 صفحہ 49) مشرکوں کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا طائف کا ایک دور وہ تھا کہ آنحضرت تبلیغ اسلام کے لئے پہنچے تو آپ کو لہولہان کر دیا گیا۔دوسرا دور یہ تھا کہ ۸ھ میں طائف اسلام کی قوت سے مرعوب ہو چکا تھا چنانچہ اہل طائف کا ایک وفد حضور کی خدمت میں پہنچا۔اس وفد کا رئیس عبدیالیل تھا۔آنحضرت نے جب پہلی مرتبہ طائف میں قدم رکھا تھا تو یہی عبدیالیل آپ کی ایذاء رسانی میں پیش پیش تھا اور آج ایک وفد کارئیس بن کر جھکی ہوئی گردن اور جھکی ہوئی آنکھ کے ساتھ حاضر دربار تھا۔لیکن معلوم ہے اس بدترین بد تہذیب اور آزار رساں دشمن کے ساتھ رسول اللہ نے کیا برتاؤ کیا اس کا فرکو آنحضرت نے دنیا کے سب سے مقدس مقام مسجد نبوی میں اتارا۔صرف اسی کو نہیں اس کے ساتھیوں کو بھی صحن مسجد میں خیمے نصب کر دیئے گئے۔اور یہ لوگ بلا تامل اس میں ٹھہرائے گئے اور ان کے ساتھ لطف و کرم کا برتاؤ کیا گیا۔جب اس وفد کے لئے آپ نے خیمے نصب کرائے تو صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ یہ پلید مشرک قوم ہے مسجد میں ان کا ٹھہرانا مناسب نہیں۔آپ نے فرمایا اس آیت میں دل کی بلندی کی طرف اشارہ ہے جسموں کی ظاہری گندگی مراد نہیں اور نہ کوئی انسان ان معنوں میں پلید ہے کیونکہ سب انسان پاک ہیں اور وہ ہر مقدس سے مقدس جگہ پر جاسکتے ہیں۔مسجد نبوی میں عیسائی عبادت (احکام القران جلد ۳ صفحه ۱۰۹) جب نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو اسے آپ نے مسجد نبوی کا مکین بنالیا۔یہی نہیں بلکہ جب مسیحی عبادت کا وقت آیا اور ان لوگوں نے مسجد میں نماز ادا کرنا چاہی تو صحابہ کرام نے منع کیا لیکن رسالت مآب نے اجازت مرحمت فرمائی (اسباب النزول صفحه ۵۳)۔یہود کا اسلام اور داعی اسلام کے ساتھ کیا رویہ تھا یہ بات ڈھکی چھپی نہیں۔یہ یہود بھی نجرانی عیسائیوں سے ملنے مسجد نبوی آیا کرتے تھے اور گھنٹوں بات چیت کیا کرتے تھے۔ان کی آمد پر بھی کسی طرح پابندی عائد نہیں کی گئی۔ابن اسحاق کہتے ہیں جب نصاری کا گروہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ مسجد میں تشریف رکھتے تھے اور عصر کی نماز پڑھ کر بیٹھے تھے۔ان کی نماز کا بھی وقت آیا یہ مسجد سے جانے لگے تو آپ نے فرمایا نماز یہیں پڑھ لو۔تو ان لوگوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔☆☆☆ www۔alislam۔org