شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم

by Other Authors

Page 52 of 54

شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 52

97 96 96 -40 دشمنوں سے عفو و درگزر کوئی مواخذہ نہیں 23 سالہ ظلم کے دور کے بعد جب آپ فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہورہے تھے اور خدا کے حضور آپ کی گردن عاجزی سے جھکتے جھکتے آپ کی اونٹنی کو جا لگی تھی۔آج آپ " کا دل خدا کی حمد سے بھرا ہوا تھا اور آج بھی وہ ایسا ہی صاف تھا۔آج بھی وہ خدا کے بندوں کے لئے اسی طرح محبت سے پر تھا جس طرح تیرہ سال قبل جب آپ اپنے عزیز شہر کو چھوڑنے پر مجبور کر دیئے گئے تھے۔اس وقت آپ بظاہر کمزور تھے اور آج آپ کے پاس غلبہ اور طاقت تھی اس لئے آج کفار مکہ کے دل خائف تھے لیکن ان کے دل کی چھپی ہوئی آواز بھی یہی تھی کہ محمد تو مجسم رحم ہے۔اس لئے ابن عباس کی حدیث کے مطابق جب حضور مکہ فتح کر چکے تو آپ " منبر پر چڑھے اپنے اللہ کی حمد وثناء بیان کی پھر اہل مکہ سے کہا تمہارا کیا گمان ہے کہ میں تم سے کیا سلوک کروں گا اور تم کیا کہتے ہو کہ تم سے کیا سلوک ہونا چاہئے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو آپ سے نیکی کی امید رکھتے ہیں اور ہم یہی کہتے ہیں کہ آپ ہم سے نیک سلوک کریں۔آپ ہمارے معزز چچازاد ہیں اور اس وقت آپ کو قدرت اور غلبہ حاصل ہے۔اس پر آپ نے فرمایا میں ( بھی ) تم سے (وہی) کہتا ہوں (جو میرے بھائی یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا کہ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوَمَ آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں کیا جائے گا۔(میں نے تمہیں معاف کیا) اللہ تمہیں معاف کرے۔وہ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔( تفسیر در منشور - سورة يوسف) زہر دینے والی عورت کو معافی فتح خیبر کے موقع پر یہود نے رسول خدا کو زہر دے کر قتل کرنے کا منصو بہ بنایا اور ایک سریع الاثر زہر بہت بڑی مقدار میں ران کے گوشت میں پکا کر حضور " کو سلام بن مشکم کی بیوی زینب کے ذریعہ تحفہ بھجوا دیا گیا۔حضور " کو یہ کھانا پیش کیا گیا۔آپ نے پہلا نوالہ منہ میں ڈالا ہی تھا کہ زہر کا احساس ہو گیا۔ایک صحابی حضرت بشر نے لقمہ نگل لیا جو کچھ عرصہ بعد اس زہر سے شہید ہو گئے۔رسول اللہ نے اس عورت اور دوسرے یہودیوں کو بلایا اور پوچھا کہ اے یہودیو! سچ سچ بتاؤ تم نے اس گوشت میں زہر کیوں ڈالا ؟ وہ عورت کہنے لگی ہم نے کہا اگر آپ سچے نہیں تو آپ سے نجات مل جائے گی اور اگر بچے ہیں تو زہر آپ پر اثر نہیں کرے گا۔رسول کریم نے بڑے جلال سے فرمایا خدا تعالیٰ تمہاری قتل کی تمام کوششوں کے باوجود تمہیں ہرگز میرے قتل کی طاقت نہیں دے گا۔(السيرة المحمدیہ صفحہ 329) میرے آقا جب مرض الموت میں آخری سانس لے رہے تھے تو حضرت عائشہ سے فرمانے لگے اے عائشہ! میں اب تک اس زہر کی اذیت محسوس کرتا رہا ہوں جو خیبر میں یہودیوں نے مجھے دیا تھا اور اب بھی میرے بدن میں اس زہر کے اثر سے کٹاؤ اور جلن کی کیفیت ہے۔مگر رسول اللہ اپنی ذات کے لئے کسی سے انتقام نہیں لیا کرتے تھے۔آپ نے اس پر بھی یہود کو بخش دیا اور اس عورت کو معاف کر دیا۔( صحیح بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی وفاتته ) www۔alislam۔org