شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 34
61 60 اوقات آپ کام کرتے ہوئے شعر پڑھنے لگ جاتے جس پر صحابہ بھی آپ کے ساتھ سُر ملا کر وہی شعر یا کوئی دوسرا شعر پڑھتے۔ایک صحابی کی روایت ہے کہ میں نے آنحضرت ملالہ کو ایسے وقت میں یہ اشعار پڑھتے ہوئے سنا کہ آپ کا جسم مبارک مٹی اور گردو غبار کی وجہ سے بالکل آٹا ہوا تھا۔(صحیح بخاری کتاب المغازی باب غزوة الخندق) میں لکڑیاں لاؤں گا ایک سفر کے دوران کھانا تیار کرنے کا وقت آیا تو مختلف صحابہ نے اپنے اپنے کام بانٹ لئے تھے۔کسی نے بکری ذبح کرنے کا کسی نے پکانے کا۔حضور نے جنگل سے لکڑیاں اکٹھا کرنے کا کام اپنے ذمہ لیا۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کام بھی ہم کر لیں گے تو آپ نے فرمایا۔میں جانتا ہوں تم یہ کام بھی کر سکتے ہو مگر میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں خود کو تم سے ممتاز کروں اور الگ رکھوں کیونکہ اللہ تعالیٰ اس آدمی کو پسند نہیں کرتا جو اپنے ہمراہیوں سے ممتاز بنتا ہے۔(شرح المواهب اللدنيه جلد 4 صفحہ 265 دار المعرفہ بیروت 1933ء) -25 حب الوطنی قومی جذبه آنحضرت ملالہ کی عمر تقریبا ہمیں سال کی تھی کہ آپ کی قوم قریش کی بعض دوسرے قبائل سے جنگ چھڑ گئی جس کو حرب فجار کہتے ہیں۔آنحضرت سلطانہ نے بھی قومی جذبہ کے تحت اسمیں شرکت کی اور گو خود قتال نہیں کیا مگر آپ اپنے چچاؤں کو تیر پکڑاتے تھے۔مکہ سے محبت (سیرت ابن ہشام باب حرب الفجار ) وہ دن شاہ دو جہاں پر کتنا بھاری ہوگا جب آپ اپنے آبائی وطن مکہ کے ان گلی کوچوں سے نکلنے پر مجبور ہوئے۔چنانچہ جس روز آپ مکہ سے نکلے ہیں تو اُس روز آپ کا دل اپنے وطن مکہ کی محبت میں خون کے آنسو رو رہا تھا۔جب آپ شہر سے باہر آئے تو اس مقام پر جب مکہ آپ کی نظروں سے اوجھل ہورہا تھا ایک پتھر پر آپ کھڑے ہو گئے اور مکہ کی طرف منہ کر کے اسے مخاطب ہوکر فرمایا۔”اے مکہ ! تو میرا پیارا شہر اور پیارا وطن تھا اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں ہرگز نہ نکلتا۔“ یہ کہا اور سفر ہجرت پر روانہ ہوئے۔(سنن ترمذی کتاب المناقب باب فضل مكة ) www۔alislam۔org