شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 35
63 29 62 26 شکر گزاری آنحضرت مقالہ اپنے رب کی صفت شکور کے بھی مظہر اتم تھے آپ کی سرشت شکر گزاری کے خمیر سے گوندھی گئی تھی۔ہر احسان کی قدر اور اس پر شکریہ کے جذبات آپ کی ذات مبارک میں مسلسل تیز دھاروں کی طرح بہتے نظر آتے ہیں۔خدا کا شکر آپ پر حقیقی اور واقعی احسان خدا تعالیٰ کا تھا جس نے آپ کو بلند ترین مقام عطا فرمایا۔آپ نے اس کی عبودیت اور بندگی کا حق ادا کر دیا۔وہ عبادت جو دوسروں کے لئے فرض کا رنگ رکھتی ہے آپ کے لئے بمنزلہ غذا کے تھی۔عبد شکور حضور متلاقہ راتوں کو عبادت میں اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ پاؤں سوج جاتے۔صحابہ عرض کرتے کہ آپ اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں۔آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ اللہ نے معاف کر رکھے ہیں۔تو آپ فرماتے کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔( صحیح بخاری کتاب التهجد - باب قیام النبي مطلقه اللي۔۔۔۔) آپ کے تعلق باللہ کے سارے جذبے اسی شکر گزاری اور وفاداری کے گردگھومتے ہیں۔انسانوں کی شکر گزاری انسانوں کے لئے آپ سراپا سپاس تھے جس کسی نے آپ کی ذرہ بھر بھی خدمت کی یا کسی طرح کوئی فائدہ پہنچایا حضور نے اس کی قدر افزائی کی اور اس کی نیکی سے بڑھ کر اسے صلہ دیا۔انسانوں میں سے کسی کے احسان کو آپ نے بغیر بدلہ کے نہیں چھوڑا۔خدمت کرنے والے سے ہزاروں گنا بڑھ کر اسے صلہ دیا۔مگر پھر بھی اس کا ذکر محسن کے طور پر کرتے رہے۔حضرت ابوبکر رسول کریم مقالہ کا تراشا ہوا ہیرا تھے۔اور آپ نے انہیں ابدالآباد تک کی روحانی زندگی بخش دی ہے مگر ان کے احسانات کا ذکر ہمیشہ ایک خاص پیار کے ساتھ فرماتے رہے۔حضرت ابوبکر حضرت ابو بکر نے آغاز اسلام سے ہی خاص قربانیوں اور خدمت کی توفیق پائی تھی اس لئے حضور ہمیشہ ان کی خدمات کو یا در کھتے اور قدر فرماتے تھے۔ایک دفعہ ایک صحابی سے حضرب ابو بکر کا اختلاف ہو گیا۔حضور کو پتہ لگا تو فرمایا:۔” جب اللہ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا تو تم سب نے مجھے جھوٹا کہا اور ابوبکر نے میری سچائی کی گواہی دی اور اپنی جان اور مال سے میری مدد کی۔کیا تم میرے اس ساتھی کی دلآزاری سے باز نہیں رہ سکتے۔“ اپنی وفات کے قریب عرصہ میں فرمایا لوگوں میں سے اپنی ہمہ وقت موجودگی اور مال کے ساتھ مجھ پر سب سے زیادہ احسان ابوبکر نے کیا ہے۔پھر فرمایا: ”مسجد نبوی میں کھلنے والی تمام کھڑکیاں بند کر دی جائیں سوائے ابوبکر کی کھڑی کئے“ ( بخاری کتاب المناقب باب فضائل ابی بکر ) www۔alislam۔org