شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 49
91 90 90 -37 حضور مریضوں کی عیادت بہترین عیادت کرنے والے ملالہ کے رحمتہ للعالمین ہونے کا ایک دائرہ مریضوں کی دنیا سے بھی تعلق رکھتا ہے۔حضور نے مریض کی عیادت کی نہ صرف تعلیم دی بلکہ عملی نمونے سے اس کے سب پہلوؤں کو روشن فرمایا۔حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ملاقہ تمام انسانوں میں سے بہترین عیادت کرنے والے تھے۔(سنن نسائی کتاب الجنائر باب عدد التكبير على الجنازة) حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ ہم حضور صل اللہ کی مجلس میں حاضر تھے کہ ایک انصاری آیا تو حضور نے اس سے پوچھا میرے بھائی سعد بن عبادہ کا کیا حال ہے۔اس نے کہا بہتر ہے۔اس پر حضور نے فرمایا۔اس کی عیادت کے لئے تم میں سے کون کون چلے گا۔چنانچہ حضور اٹھ کھڑے ہوئے اور ہم تیرہ کے قریب افراد حضور کے ساتھ چل پڑے اور حضرت سعد بن عبادہ کی خیریت معلوم کی۔(صحيح مسلم كتاب الجنائز باب عيادة المرضى) غالباً یہ دوسرا واقعہ ہے کہ:۔بدر کی جنگ سے پہلے قبیلہ خزرج کے رئیس حضرت سعد بن عبادہ بیمار ہو گئے تو حضور اپنی سواری پر سوار ہو کر ان کی عیادت کے لئے گئے۔راستہ میں عبد اللہ بن ابی بن سلول بہت بدتمیزی سے پیش آیا مگر آپ نے اس سے اعراض فرمایا۔( صحیح بخاری کتاب المرضى باب عيادة المريض) بلا امتیاز مریض کی عیادت کے لئے حضور ملاقہ رنگ ونسل اور مذہب کا کوئی امتیاز روانہ رکھتے اور امیر وغریب مسلم و غیر مسلم اور اعراب کے ساتھ یکساں ہمدردی کا سلوک فرماتے اور ہر ایک اس چشمہ ء رحمت سے سیراب ہوتا رہا۔حضرت سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں کہ حضور صل اللہ غرباء اور مساکین کی عیادت کے لئے جایا کرتے تھے۔اور ان کا خیال رکھتے تھے چنانچہ ایک غریب عورت بیمار ہوئی تو حضور اس کی عیادت کے لئے جاتے رہے۔اور جب اس کا آخری وقت آیا تو حضور کی تکلیف کے خیال سے صحابہ نے آپ کو اطلاع نہیں کی اور جنازہ پڑھ کر دفن کر دیا۔صبح حضور ملالہ کو خبر ہوئی تو حضور ناراض ہوئے اور اس کی قبر پر جا کر جنازہ پڑھایا۔(موطا امام مالک۔کتاب الجنائز) حضرت انس بیان فرماتے ہیں کہ۔ایک یہودی کا لڑکا آنحضرت ملالہ کی خدمت کرتا تھاوہ بچہ بیمار ہوگیا تو حضور اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت بھی دی۔اس لڑکے نے اپنے والد کی طرف دیکھا تو اس کے والد نے کہا ابوالقاسم (رسول کریم ملالہ کی کنیت تھی) کی اطاعت کرو چنانچہ اس لڑکے نے اسلام قبول کر لیا۔حضور جب وہاں سے نکلے تو بہت خوش تھے اور فرمارہے تھے الحمد للہ کہ خدا نے اس لڑکے کو آگ سے نجات بخشی۔( صحیح بخاری کتاب الجنائز باب اذا اسلم العمی ) عبداللہ بن ابی بن سلول منافقوں کا سردار اور حضور کا دلی دشمن تھا مگر جب وہ بیمار ہوا تو حضور اُس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔(سنن ابی داؤد کتاب الجنائز باب العيادة ) www۔alislam۔org