شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم

by Other Authors

Page 48 of 54

شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 48

89 88 -36 مہمان نوازی مہمان نوازی کا ایک منظر اصحاب الصفہ کے ایک فرد حضرت طخفہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلى الله : ہمیں لے کر حضرت عائشہ کے گھر پہنچے اور فرمایا عائشہ ہمارے کھانے کے لئے کچھ لا دو۔حضرت عائشہ حریسہ لے کر آئیں۔یہ ایک کھانا ہے جو پیسے ہوئے آٹے سے بنایا جاتا ہے۔اور اس پر گوشت یا کھجور رکھ دی جاتی ہے۔ہم نے یہ کھانا کھالیا تو حضور نے پھر فرمایا۔عائشہ اب ہمارے پینے کے لئے کچھ لاؤ اسپر حضرت عائشہ دودھ لے کر آئیں جو ہم نے پی لیا۔حضور نے مزید پینے کے لئے ارشاد فرمایا تو حضرت عائشہ ایک چھوٹے سے پیالے میں دودھ لے کر آئیں ہم نے وہ بھی پی لیا۔( سنن ابوداود کتاب الادب باب في الرجل من طح على بطنه ) کپڑے دھوئے ایک دفعہ ایک یہودی آپ کے پاس مہمان کے طور پر ٹھہرا۔نظام ہضم کی خرابی کی وجہ سے اس کو اسہال شروع ہو گئے اور رات کو بستر کی چادر خراب ہوگئی۔صبح وہ شرم کے مارے ملے بغیر ہی چلا گیا۔اتفاق سے وہ اپنی تلوار حضور کے گھر بھول آیا تھا۔جب اسے یاد آیا تو واپس لوٹا اور دیکھا کہ حضور اپنے ہاتھوں سے اس کپڑے کو دھو رہے ہیں۔یہ دیکھ کر اس نے اسلام قبول کر لیا۔اسلام قبول کر لیا ایک رات ایک غیر مسلم آنحضرت متلاقہ کے ہاں مہمان ہوا۔آپ نے اسے بکری کا دودھ پیش کیا لیکن اس سے اس کی تسلی نہ ہوئی تو آپ نے دوسری بکری کا دودھ پیش کیا لیکن پھر بھی اس کی تسلی نہ ہوئی۔اس پر تیسری، چوتھی یہاں تک کہ وہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا۔اسی حسن اخلاق کا اثر تھا کہ صبح اس کا فر نے اسلام قبول کر لیا۔اور پھر صرف ایک بکری کے دودھ پر قانع ہو گیا۔( صحیح مسلم کتاب الاشر به باب المؤمن یا کل فی معی واحد ) دار الضیافت مدینہ اسلام کا مرکز تھا اور عرب میں مختلف اطراف اور صوبوں میں جوق در جوق لوگ بارگاہ نبوی میں حاضر ہوتے تھے۔ایسے مہمانوں کی سہولت کے لئے حضور کے گھر کے علاوہ کم از کم دو ایسے مقامات کا ذکر ملتا ہے جہاں مہمان ٹھہرائے جاتے تھے۔چنانچہ ایک صحابی رملہ کا گھر دار لضیوف تھا۔اور مہمان یہاں اترتے تھے۔(زرقانی باب ذکر و فود) اسی طرح حضرت ام شریک جو نہایت دولت مند اور نہایت فیاض صحابیہ تھیں۔انہوں نے اپنے مکان کو مہمان خانہ بنا دیا تھا۔رسول اللہ متعلقہ کی خدمت میں باہر سے جو مہمان آتے تھے وہ اکثر ان ہی کے مکان پر ٹھہرتے تھے۔(سنن نسائی کتاب النکاح باب الخطبة في النکاح) ☆☆☆ www۔alislam۔org