شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 47
87 92 86 رحم کا جذبہ ہے جو خدا نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھا ہوتا ہے۔خدا اپنے بندوں میں سے ان پر رحم کرتا ہے جو خود رحم کرنے والے ہوتے ہیں۔(صحیح بخاری کتاب الجنائز باب يعذب الميت ) حضرت فاطمہ سے پیار آنحضرت مطالعہ کی بیٹی حضرت فاطمہ جب حضور سے ملنے کے لئے آتیں تو حضور کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے۔ان کا ہاتھ پکڑ کر اسے بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے۔(سنن ترمذی کتاب المناقب باب مناقب فاطمه) زید سے محبت حضور کا منہ بولا بیٹازید تھا جس کا ذکر قرآن میں بھی آیا ہے یہ ایک غلام تھا اور عربوں میں غلام کی کوئی حیثیت نہ تھی یہ طبقہ بہت ہی مظلوم و مقہور تھا۔مالک جو چاہتا اس سے سلوک کرتا۔حالت مویشیوں سے بھی بدتر تھی۔حضور نہ صرف زید کو بہت عزیز رکھتے تھے بلکہ ان کے بیٹے اسامہ سے بھی بہت پیار کرتے اپنے بچوں کی طرح اسے رکھتے۔حضور اپنے نواسے حسین کو ایک زانو پر بٹھا لیتے اور اسامہ کو دوسرے پر اور دونوں کو سینہ سے لگا کر بھینچتے اور فرماتے اللہ میں ان سے پیار کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کی جائیو۔حضرت اُسامہ کا ناک خود صاف کرتے۔( صحیح بخاری کتاب المناقب باب الحسن والحسین سنن ترمذی کتاب المناقب باب مناقب اسامه ) -35 حقوق ہمسایہ حق ہمسائیگی مکی دور میں ابولہب اور عقبہ بن ابی معیط حضور متلاقہ کے پڑوسی تھے جو آپ کے دونوں طرف آباد تھے۔اور انہوں نے شرارتوں کی انتہاء کی ہوتی تھی۔یہ لوگ بیرونی مخالفت کے علاوہ گھر میں بھی ایذا پہنچانے سے باز نہ آتے تھے اور اذیت دینے کے لئے غلاظت کے ڈھیر حضور کے دروازے پر ڈال دیتے۔حضور جب باہر نکلتے تو خود اس غلاظت کو راستے سے ہٹاتے اور صرف اتنا فرماتے:۔”اے عبد مناف کے بیٹو! یہ تم کیا کر رہے ہو کیا یہی حق ہمسائیگی ہے۔“ ( طبقات ابن سعد جلد 1 صفحہ 201 بیروت 1960) ہمسایے کو اذیت نہ دو حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ:۔آنحضرت مقالہ ایک دفعہ میرے ہاں استراحت فرمارہے تھے کہ ہمسایہ کی پالتو بکری آئی اور روٹی کی طرف بڑھی جو میں نے حضور کے لئے پکا کر رکھی ہوئی تھی۔اس نے روٹی اٹھالی اور واپس جانے لگی۔مجھے اس پر شدید غصہ آیا اور میں اسے روکنے کے لئے دروازے کی طرف جلدی سے جانے لگی تو حضور ملالہ نے فرمایا:۔اس بکری کو تکلیف دے کر ہمسائے کو اذیت نہ دینا۔“ الادب المفرد باب لا یوذی جاره از امام بخاری) www۔alislam۔org