شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم

by Other Authors

Page 27 of 54

شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 27

47 -19 46 -18 عدل و انصاف انصاف کا بلند ترین معیار حضرت عروہ بن زبیر روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دنوں کی بات ہے کہ ایک عورت نے چوری کی (حضور نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا) لیکن اس کی قوم کے لوگ جھٹ سے اسامہ بن زید کے پاس ان سے حضور کی خدمت میں سفارش کرانے کو پہنچ گئے۔عروہ کہتے ہیں کہ جب (حضرت) اسامہ نے آنحضرت ملاقہ سے (اس عورت کو معاف کر دینے کے بارہ میں ) عرض کیا تو حضور گیا چہرہ متغیر ہو گیا اور فرمایا کہ۔کیا تم مجھ سے ان حدود کے بارہ میں سفارش کرتے ہو جو اللہ نے قائم کی ہیں اور ( چاہتے ہو کہ میں خدا کی حدود کو بالائے طاق رکھ دوں اور اس عورت کو ان حدود سے آزاد چھوڑ دوں۔ایسا نہیں ہوسکتا) اس پر اسامہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ملاقہ ( مجھ سے بہت گناہ ہوا ہے) میرے لئے اپنے موٹی سے ) مغفرت طلب کیجئے۔پھر جب شام ہوئی تو حضور خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور جیسا کہ اللہ کا حق ہے اس کی تعریف فرمائی پھر فرمایا۔اپنے مولیٰ کی ثناء کے بعد ( میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ) جس چیز نے تم سے پہلی قوموں کو ہلاک کیا وہ یہی تھی کہ اگر ان میں کوئی شریف اور بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا اس پر حد جاری کر دیتے ( اور اسے سزا دیتے لیکن سنو) مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (متلاقہ ) کی جان ہے اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دوں۔(بخاری کتاب المغازی باب صلى مقام التي لا اله ) دین کی راہ میں قربانیاں اور صبر و استقا حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ملاقہ نے فرمایا۔اللہ کی راہ میں جتنا مجھے ڈرانے کی کوشش کی گئی کسی اور کے لئے ایسی کوشش نہیں ہوئی۔اور راہ مولیٰ میں جتنی اذیت مجھے دی گئی اتنی کسی اور کو نہیں دی گئی۔اور مجھ پر تمیں دن ایسے گزرے کہ میرے اور بلال کے لئے کوئی کھانا نہیں تھا جسے کوئی زندہ وجود کھا سکے سوائے معمولی سے کھانے کے جو بلال کی بغل کے نیچے آسکتا تھا۔(جامع ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ حدیث نمبر 2396) اونٹنی کی بچہ دانی ایک دفعہ آپ صحن کعبہ میں خدا تعالیٰ کے سامنے سر بسجود تھے اور چند رؤساء قریش بھی وہاں مجلس لگائے بیٹھے تھے کہ ابو جہل نے کہا اس وقت کوئی شخص ہمت کرے تو کسی اونٹنی کی بچہ دانی لا کر محمد کے اوپر ڈال دے چنانچہ عقبہ بن ابی معیط اٹھا اور ایک ذبح شدہ اونٹنی کی بچہ دانی لا کر جو خون اور گندی آلائش سے بھری ہوئی تھی آپ کی پشت پر ڈال دی اور پھر سب قہقہے لگا کر ہنسنے لگے۔حضرت فاطمتہ الزہر کو اس کا علم ہوا تو وہ دوڑی آئیں اور اپنے باپ کے کندھوں سے یہ بوجھ اتارا۔تب جا کر آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا۔روایت آتی ہے کہ اس موقعہ پر آنحضرت صل اللہ نے ان روساء قریش کے نام لے لے کر جو اس طرح اسلام کو مٹانے کے درپے تھے بددعا www۔alislam۔org