شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 19
31 30 30 -10 دعوت الی اللہ اقرباء کو دعوت اسلام جب یہ آیت نازل ہوئی فَاصْدَعُ بِمَا تُؤْمَرُ د یعنی اے رسول ! جو حکم تجھے دیا گیا ہے وہ کھول کھول کر لوگوں کو سنادے۔“ اور اس کے قریب ہی یہ آیت اتری کہ:- انْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ۔یعنی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار و بیدار کر “ جب یہ احکام اترے تو آنحضرت ملالہ کوہ صفا پر چڑھ گئے اور بلند آواز سے پکار کر اور ہر قبیلہ کا نام لے لے کر قریش کو بلایا۔جب سب لوگ جمع ہو گئے۔تو آپ نے فرمایا: اے قریش! اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بڑا لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنے کو تیار ہے تو کیا تم میری بات کو مانو گے! بظاہر یہ ایک بالکل نا قابل قبول بات تھی مگر سب نے کہا۔”ہاں ہم ضرور مانیں گے کیونکہ ہم نے تمہیں ہمیشہ صادق القول پایا ہے۔آپ نے فرمایا۔تو پھر سنو! میں تم کو خبر دیتا ہوں کہ اللہ کے عذاب کا لشکر تمہارے قریب پہنچ چکا ہے۔خدا پر ایمان لاؤ تا اس عذاب سے بچ جاؤ۔“ جب قریش نے یہ الفاظ سنے تو کھلکھلا کر ہنس پڑے اور آپ کے چا ابولہب نے آپ سے مخاطب ہو کر کہا۔تَبالَكَ اَلِهَذَا جَمَعْتَنَا۔محمد تو ہلاک ہو۔اس غرض سے تو نے ہم کو جمع کیا تھا۔پھر سب لوگ ہنسی مذاق کرتے ہوئے منتشر ہو گئے۔“ 66 صحیح بخاری کتاب التفسير - سورة الحب ) اقرباء کی دعوت انہی دنوں میں آنحضرت متلاقہ نے حضرت علیؓ سے ارشاد فرمایا کہ ایک دعوت کا انتظام کرو اور اس میں بنو عبدالمطلب کو بلاؤ۔تا کہ اس ذریعہ سے ان تک پیغام حق پہنچایا جاوے چنانچہ حضرت علی نے دعوت کا انتظام کیا اور آپ نے اپنے سب قریبی رشتہ داروں کو جو اس وقت کم و بیش چالیس 40 نفوس تھے اس دعوت میں بلایا۔جب وہ کھانا کھا چکے تو آپ نے کچھ تقریر شروع کرنی چاہی مگر بد بخت ابولہب نے کچھ ایسی بات کہہ دی جس سے سب لوگ منتشر ہو گئے۔اس پر آنحضرت نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ یہ موقعہ تو جاتا رہا۔اب پھر دعوت کا انتظام کرو۔چنانچہ آپ کے رشتہ دار پھر جمع ہوئے اور آپ نے انہیں یوں مخاطب کیا کہ اے بنوعبدالمطلب !دیکھو میں تمہاری طرف وہ بات لے کر آیا ہوں کہ اس سے بڑھ کر اچھی بات کوئی شخص اپنے قبیلہ کی طرف نہیں لایا۔میں تمہیں خدا کی طرف بلاتا ہوں۔اگر تم میری بات مانو تو تم دین و دنیا کی بہترین نعمتوں کے وارث بنو گے۔اب بتاؤ اس کام میں میرا کون مددگار ہوگا ؟ سب خاموش تھے اور ہر طرف مجلس میں ایک سناٹا تھا کہ یکلنمت ایک طرف سے ایک تیرہ سال کا دبلا پتلا بچہ جس کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا اٹھا اور یوں گویا ہوا۔گو میں سب میں کمزور ہوں اور سب سے چھوٹا ہوں مگر میں آپ کا ساتھ دوں گا“ یہ حضرت علی کی آواز تھی۔آنحضرت ملاقہ نے حضرت علی کے یہ الفاظ سنے تو اپنے رشتہ داروں کی طرف دیکھ کر فرمایا۔اگر تم جانو تو اس بچے کی بات سنو اور اسے مانو “ حاضرین نے یہ نظارہ دیکھا تو بجائے عبرت حاصل کرنے کے سب کھلکھلا کر ہنس پڑے اور ابولہب اپنے بڑے بھائی ابوطالب سے کہنے لگا۔لواب محمد" تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم اپنے بیٹے کی پیروی اختیار کرو۔اور پھر یہ لوگ اسلام اور آنحضرت ملالہ کی کمزوری پر ہنسی اڑاتے ہوئے رخصت ہو گئے۔“ تاریخ طبری جلد 2 صفحہ 63 مطبع استقامه قاهره-1939) www۔alislam۔org