شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 12
17 16 اللہ ہم کیا کہیں ؟ آپ نے فرمایا انہیں کہو کہ:۔اللہ مولا نا ولا مولیٰ لکم خدا ہمارا دوست و کارساز ہے اور تمہارا کوئی دوست نہیں۔“ ( صحیح بخاری کتاب الجہاد باب ما يكره من التنازع) اطاعت خداوندی آپ اس وقت تک مکہ سے نہیں نکلے جب تک کہ خدا کی طرف سے حکم نہ ہوا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں ہم ایک دن بیٹھے ہوئے تھے کہ عین دو پہر کے وقت رسول کریم تشریف لائے اور سر لپیٹا ہوا تھا۔آپ اس وقت کبھی نہیں آیا کرتے تھے۔حضرت ابوبکر نے فرمایا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ اس وقت کسی بڑے کام کے لئے آئے ہوں گے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم نے اجازت مانگی اور اجازت ملنے پر گھر میں آئے اور فرمایا کہ جولوگ بیٹھے ہیں ان کو اٹھا دو۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا یا رسول الله ، واللہ وہ آپ کے اہل ہی تو ہیں۔آپ نے فرمایا اچھا مجھے ہجرت کا حکم ہوا ہے۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا مجھے آپ کی مصاحبت نصیب ہو سکتی ہے۔آپ نے ان کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے فرمایا ”ہاں“۔(بخاری کتاب المناقب باب هجرة النبي) اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس وقت تک مکہ سے نہیں نکلے جب تک حکم نہ ہوا اور آخر وقت تک اس بات پر قائم رہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں کرنا۔-4 خشیت الہی بدر میں تضرع بدر کے دوران جب کہ دشمن کے مقابلہ میں آپ اپنے جاں نثار بہادروں کو لے کر کھڑے ہوئے تھے۔تائید الہی کے آثار ظاہر تھے۔کفار نے اپنا قدم جمانے کے لئے پختہ زمین پر ڈیرے لگائے تھے اور مسلمانوں کے لئے ریت کی جگہ چھوڑ دی تھی لیکن خدا نے بارش بھیج کر کفار کے خیمہ گاہ میں کیچڑ ہی کیچڑ کر دیا اور مسلمانوں کی جائے قیام مضبوط ہوگئی۔اسی طرح اور بھی تائیدات سماویہ ظاہر ہورہی تھیں۔لیکن باوجود اس کے اللہ تعالیٰ کا خوف ایسا آنحضرت پر غالب تھا کہ سب وعدوں اور نشانات کے باوجود اس کے غنا کو دیکھ کر گھبراتے تھے اور بے تاب ہو کر اس کے حضور میں دعا کرتے تھے کہ مسلمانوں کو فتح دے۔آپ یہ دعا کر رہے تھے اور اس الحاح کی کیفیت میں آپ کی چادر بار بار کندھوں سے گر جاتی تھی۔اللهمّ اِنّى اَنْشُدُ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ اللَّهُمَّ إِن تَهْلِكَ هَذِهِ الْعِصَابَةُ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدُ فِي الْأرض (تاریخ طبری) اے میرے خدا اپنے وعدہ کو اپنی مدد کو پورا فرما۔اے میرے اللہ اگر مسلمانوں کی یہ جماعت آج ہلاک ہو گئی تو دنیا میں تجھے پوجنے والا کوئی نہیں رہے گا۔اس وقت آپ اس قدر کرب کی حالت میں تھے کہ کبھی آپ سجدہ میں گر جاتے اور کبھی کھڑے ہو کر خدا کو پکارتے تھے اور آپ کی چادر آپ کے کندھوں سے گر پڑتی تھی۔حضرت علی کہتے ہیں مجھے لڑتے لڑتے آنحضرت کا خیال آتا اور میں دوڑ کے آپ کے پاس پہنچ جاتا تو www۔alislam۔org