شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم

by Other Authors

Page 51 of 54

شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 51

95 94 -39 ساتھیوں کا خیال مشکلات میں شراکت آنحضرت ملالہ سفر میں اپنے ہمراہیوں اور ساتھیوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔اپنے آپ کو ان پر کوئی ترجیح نہ دیتے اور ان کے ساتھ مل کر مشکلات برداشت فرماتے۔آنحضرت ملاقہ جب غزوہ بدر کیلئے مدینہ سے نکلے تو سواریاں بہت کم تھیں تین تین آدمیوں کے حصے میں ایک ایک اونٹ آیا۔آنحضرت ملالہ خود بھی اس تقسیم میں شامل تھے اور آپ کے حصہ میں جو اونٹ آیا اس میں آپ کے ساتھ حضرت علیؓ اور حضرت ابولبابہ بھی شریک تھے اور سب باری باری سوار ہوئے۔جب رسول کریم صل اللہ کے اترنے کی باری آتی تو دونوں جانثار عرض کرتے یا رسول اللہ صل اللہ آپ سوار رہیں ہم پیدل چلیں گے مگر آپ فرماتے تم دونوں مجھ سے زیادہ پیدل چلنے کی طاقت نہیں رکھتے اور نہ میں تم دونوں سے زیادہ ثواب سے مستغنی ہوں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 411 المكتب الاسلامي للطباعه و النشر بيروت) غلام سوار۔آقا پیدل حضرت عقبہ بن عامر جہنی ایک مرتبہ سفر میں حضور ملاقہ کی خدمت میں حاضر تھے۔حضور نے اپنی سواری بٹھادی اور اتر کر فرمایا اب تم سوار ہو جاؤ۔عرض کیا یا رسول اللہ مقالہ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں آپ کی سواری پر سوار ہو جاؤں اور آپ پیدل چلیں۔حضور ملالہ نے پھروہی ارشاد فرمایا اور غلام کی طرف سے وہی جواب تھا۔حضور متلاحقہ نے پھر اصرار فرمایا تو اطاعت کے خیال سے سواری پر سوار ہو گئے اور حضور نے سواری کی باگ پکڑ کر اس کو چلانا شروع کر دیا۔صلى الله ( کتاب الولاۃ کندی بحوالہ سیر الصحابہ جلد 2 صفحہ 216 از شاہ معین الدین احمد ندوی ادارہ اسلامیات لاہور ) حضور صلى الله سوار ہو جاؤ ایک دفعہ سواری پر سوار ہو کر قبا کی طرف جانے لگے۔ابوہریرہ ساتھ تھے۔حضور نے ان سے فرمایا کیا میں تمہیں بھی سوار کرلوں انہوں نے عرض کیا جیسے حضور کی مرضی تو فرمایا آؤ تم بھی سوار ہو جاؤ۔حضرت ابو ہریرہ نے سوار ہونے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوئے اور گرتے گرتے حضور کو پکڑ لیا اور حضور کے ساتھ گر پڑے۔حضور پھر سوار ہوئے اور ابو ہریرہ کو سوار ہونے کی دعوت دی مگر وہ دوسری دفعہ بھی حضور کو لے کر گر پڑے۔حضور پھر سوار ہوئے اور ابو ہریرہ سے پوچھا کیا تمہیں بھی سوار کرلوں تو کہنے لگے اب میں آپ کو تیسری دفعہ نہیں گرانا چاہتا۔(المواهب اللدنيه_زرقانی جلد 4 صفحہ 265 دار لمعرفہ بیروت) یہ واقعہ حضور کی صحابہ سے بے تکلفی بشاشت اور لطیف حس مزاح کا بہترین نمونہ ہے۔www۔alislam۔org