شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم

by Other Authors

Page 39 of 54

شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 39

71 70 بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کو مارتے۔جب کسی ناپسندیدہ بات کو دیکھتے تو منہ پھیر لیتے۔اور جب خوش ہوتے تو آنکھیں کسی قدر بند کر لیتے۔آپ کی زیادہ سے زیادہ ہنسی کھلے تبسم کی حد تک ہوتی یعنی زور کا قہقہہ نہ لگاتے۔انہی کے وقت آپ کے دندان مبارک ایسے نظر آتے جیسے بادل سے گرنے والے سفید سفید اولے ہوتے ہیں۔پاک زبان (شمائل الترمذی باب کلام رسول اللہ ) مسروق کہتے ہیں کہ (ایک دن) ہم عبد اللہ بن عمرو کے پاس بیٹھے تھے (آنحضرت ملالہ کا تذکرہ ہورہا تھا ) عبداللہ بن عمرو ہمیں حضور کی باتیں بتا رہے تھے کہ دوران گفتگو عبد اللہ بن عمرو نے کہا کہ حضور " کی زبان پر کبھی کوئی ایسی بات نہیں آتی تھی جو نا پسندیدہ ہو۔کبھی کوئی مخش کلمہ کوئی بے حیائی کی بات ہم نے حضور کی زبان سے نہیں سنی اور حضور کو ایسی عادت نہ تھی نہ حضور تکلفاً کوئی ایسی بات کرتے تھے بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سے بہتر انسان وہ ہے جو تم میں سے اپنے اخلاق میں سب سے اچھا ہو۔(بخاری کتاب الادب باب حسن الخلق ) گواہی صحابہ کی گواہی ہے کہ:۔آنحضرت ملالہ کوئی بے حیائی کی بات نہ خود کرتے تھے نہ اسے سننا پسند کرتے تھے۔“ (بخاری کتاب الادب باب لم یکن النبی فاحشا و لا تحتا) كَانَ الْيَنَ النَّاسِ وَاكْرَمَ النَّاسِ وَكَانَ ضَحَّاكًا بَسَّامًا۔سب سے نرم خوا خلاق کریمانہ کی بارشیں برسانے والے اور ہر تنگی وسختی میں تبسم ریز تھے۔(طبقات اے بن سعد جلد اوّل صفحہ 365) -29 ور شگفتگی تبسم اور تبسم ریز چهره صلى الله حضرت عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے زیادہ مسکراتے ہوئے کسی اور شخص کو نہیں دیکھا۔( یعنی ہر وقت آپ کے چہرہ مبارک پر تبسم کھلا رہتا)۔( سنن ترمذی ابواب المناقب باب بشاشته النبی) حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے آنحضرت ملالہ کو بھی زور سے قہقہہ لگا کر ہنتے ہوئے نہیں دیکھا۔آپ کا ہنسنا تبسم کے انداز سے ہوتا تھا۔( صحیح بخاری کتاب الادب باب التبسم) حضرت سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ سے پوچھا کہ کیا آپ حضور کی مجالس میں بیٹھا کرتے تھے؟ فرمایا بہت کثرت کے ساتھ۔حضور مفجر کی نماز پڑھانے کے بعد جائے نماز پر ہی سورج طلوع ہونے تک تشریف فرما رہتے تھے۔صحابہ آپس میں زمانہ جاہلیت کی باتیں کر کے ہنسا کرتے تھے اور حضور بھی ان کے ساتھ قسم فرمایا کرتے تھے۔( صحیح مسلم کتاب الفضائل باب تبسمه ) حضرت عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے کسی کو حضور سے زیادہ مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا۔حضرت جریر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضور جب بھی مجھے دیکھتے تو مسکرا دیتے تھے۔الشمائل المحمد سه لتر مذی باب فی محک رسول اللہ ) www۔alislam۔org