شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم

by Other Authors

Page 38 of 54

شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 38

69 69 68 برابر کچھ کو پڑے تھے اور کمرہ کے ایک کو نہ میں ایک درخت کے کچھ پتے جن سے جانوروں کی کھالوں کو رنگا جاتا تھا وہ پڑے تھے اور ایک تازہ کھال جسے ابھی رنگ کر تیار نہیں کیا گیا تھا وہ لٹک رہی تھی۔یہ دیکھ کر بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔حضور نے اس حالت میں مجھے دیکھا تو فرمایا کہ اے ابن الخطاب تجھے رونا کیوں آ گیا۔میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی میں کیوں نہ روؤں یہ چٹائی آپ کا بستر ہے اور آپ کے جسم پر اس کے نشان پڑ گئے ہیں اور آپ کی ساری دولت بس یہی ہے کچھ کھو کچھ پتے اور ایک غیر تیار شدہ کھال جو مجھے اس کمرہ میں نظر آرہی ہے۔یہ آپ " کی حالت ہے اور ادھر قیصر و کسری ہیں کہ دولت میں لوٹ رہے ہیں۔باغوں کے مالک ہیں۔دریاؤں پر قابض ہیں اور اللہ جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے آپ اس کے نبی ہیں۔اس کے برگزیدہ ہیں اور اُس کی نگاہ میں سب سے بڑھ کر ہیں اور اس کے باوجود آپ کی ساری دنیوی دولت بس یہی کچھ ہے جو اس کمرہ میں ہے۔حضرت عمر کہتے ہیں جب حضور نے میری یہ بات سنی تو فرمایا کہ اے ابن الخطاب کیا تجھے یہ بات پسند نہیں کہ قیصر و کسریٰ کو اس دنیا کی دولتیں دے دی جائیں اور ہمیں آخرت کی نعمتوں سے مالا مال کر دیا جائے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں یا رسول اللہ۔(سنن ابن ماجہ کتاب الزهد باب ضباع آل محمد ) ☆☆☆ -28 پاک زبان انداز گفتگو حضرت حسن بن علی کا بیان ہے کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ سے آنحضرت مقالہ کی گفتگو کے انداز کے بارہ میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آنحضرت صل اللہ ہمیں یوں لگتے جیسے کسی مسلسل اور گہری سوچ میں ہیں اور کسی خیال کی وجہ سے کچھ بے آرامی سی ہے آپ اکثر چپ رہتے۔بلا ضرورت بات نہ کرتے۔آپ بات کرتے تو پوری وضاحت سے کرتے۔آپ کی گفتگو مختصر لیکن فصیح و بلیغ ، پر حکمت اور جامع مضامین پر مشتمل اور زائد باتوں سے خالی ہوتی لیکن اس میں کوئی کمی یا ابہام نہیں ہوتا تھا۔نہ کسی کی مذمت و تحقیر کرتے نہ تو ہین وتنقیص چھوٹی سے چھوٹی نعمت کو بھی بڑا ظاہر فرماتے۔شکر گزاری کا رنگ نمایاں تھا۔کسی چیز کی مذمت نہ کرتے۔نہ اتنی تعریف جیسے وہ آپ کو بے حد پسند ہو۔مزیدار یا بدمزہ ہونے کے لحاظ سے کھانے پینے کی چیزوں کی تعریف یا مذمت میں زمین و آسمان کے قلابے ملانا آپ کی عادت نہ تھی۔ہمیشہ میانہ روی شعار تھا۔کسی دنیوی معاملے کی وجہ سے نہ غصے ہوتے نہ برا مناتے۔لیکن اگر حق کی بے حرمتی ہوتی یا حق غصب کر لیا جاتا تو پھر آپ کے غصے کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا تھا۔جب تک اس کی تلافی نہ ہو جاتی آپ کو چین نہیں آتا تھا۔اپنی ذات کے لئے کبھی غصہ نہ ہوتے اور نہ آپ اس کے لئے بدلہ لیتے۔جب اشارہ کرتے تو پورے ہاتھ سے کرتے صرف انگلی نہ ہلاتے جب آپ تعجب کا اظہار کرتے تو ہاتھ الٹا دیتے۔جب کسی بات پر خاص طور پر زور دینا ہوتا تو ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے اس طرح ملاتے کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر www۔alislam۔org