شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم

by Other Authors

Page 36 of 54

شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 36

65 64 حضرت خدیجہ حضرت ابوبکر جیسا ہی معاملہ حضرت خدیجہ کے ساتھ پیش آیا حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں که حضور متال اللہ جب بھی حضرت خدیجہ کا ذکر فرماتے تو بہت تعریف کرتے۔ایک دن میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان سے بہتر بیویاں عطا کی ہیں۔تو آپ نے فرمایا:۔”جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا تھا تو خدیجہ نے مجھے قبول کیا جب لوگوں نے میرا کفر کیا تو وہ ایمان لائیں جب لوگوں نے مجھے مال سے محروم کر دیا تھا انہوں نے مال سے میری مدد کی اور اللہ نے انہی سے مجھے اولاد بھی عطا فرمائی۔“ ( مسند احمد بن حنبل جلد 6 ص 117 المكتب الاسلامی۔بیروت) انصار مدینہ رسول کریم ملاقہ کی نبوت کے 13 ویں سال حضور کی ہجرت سے قبل مدینہ سے 70 لوگوں نے حضور کے ہاتھ پر بیعت کی۔اور عہد کیا کہ جب حضور مدینہ تشریف لائیں گے تو ہم اپنی جانوں کی طرح حضور" کی حفاظت کریں گے۔اس موقع پر ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ مدینہ کے یہود کے ساتھ ہمارے پرانے تعلقات ہیں۔آپ کا ساتھ دینے سے وہ منقطع ہو جائیں گے۔ایسا نہ ہو کہ جب اللہ آپ کو غلبہ دے تو آپ ہمیں چھوڑ کر مکہ واپس آجائیں۔حضور نے فرمایا:۔د نہیں نہیں۔ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔تمہارا خون میرا خون ہوگا تمہارے دوست میرے دوست اور تمہارے دشمن میرے پیشمن۔چنانچہ مدینہ جانے کے بعد حضور " کو اللہ تعالیٰ نے عظیم الشان فتوحات عطا فرمائیں اور آپ فاتحانہ شان کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے مگر چند دن قیام کے بعد مدینہ واپس چلے گئے۔اور د ہیں دفن ہونا پسند فرمایا۔جنگ حنین کے بعد مال غنیمت کی تقسیم پر ایک انصاری نے اعتراض کیا تو حضور نے انصار سے ایک درد ناک خطاب کیا اور اس میں فرمایا :۔اگر تم یہ کہو کہ اے محمد ہمارے پاس تو اس حال میں آیا کہ تو جھٹلایا گیا تھا اور ہم نے اس وقت تیری تصدیق کی اور تجھے اپنوں نے دھتکار دیا تھا ہم نے اس وقت تجھے قبول کیا اور پناہ دی تھی۔اور تو ہمارے پاس اس حال میں آیا کہ مالی لحاظ سے بہت کمزور تھا اور ہم نے تجھے غنی کر دیا اگر تم یہ کہو تو میں تمہاری تمام باتوں کی تصدیق کروں گا۔اے انصار ا گر لوگ مختلف وادیوں یا گھاٹیوں میں سفر کر رہے ہوں تو میں اسی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا جس میں تم انصار چلو گے۔اگر میرے لئے ہجرت مقدر نہ ہوتی تو میں تم میں سے کہلانا پسند کرتا تم تو میرے ایسے قریب ہو جیسے وہ کپڑے جو میرے بدن کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں اور باقی لوگ میری اوپر کی چادر کی (مسند احمد بن حنبل جلد 3 ص 76) مطعم بن عدی طرح ہیں۔جنگ بدر کے موقعہ پر جب مکہ کے قیدی حضور ملاقہ کی خدمت میں پیش کئے گئے تو حضور نے فرمایا:۔اگر آج مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور مجھ سے ان لوگوں کی سفارش کرتا تو میں ان کو ( صحیح بخاری کتاب المغازی باب غزوہ بدر ) یونہی چھوڑ دیتا۔(سیرت ابن ہشام جلد 2 ص 85 - مطبع مصطفى مصر - 1936ء) www۔alislam۔org