شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 98 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 98

98 خوست سے کا بل لایا جانا خوست کے گورنر عبدالرحمن خان کو یہ ڈر تھا کہ اگر حضرت صاحبزادہ صاحب کو فوری طور پر کا بل بھجوایا گیا تو شاید راستہ میں آپ کے مرید حملہ کر کے آپ کو چھڑا کر لے جائیں اس لئے اس نے آپ کو خوست کی چھاؤنی میں ہی زیر حراست رکھا۔کچھ عرصہ کے بعد اس کی تسلی ہو گئی کہ حضرت صاحبزادہ صاحب خود ہی کا بل جانے پر آمادہ ہیں اور لوگوں کو اس امر سے منع کرتے ہیں کہ وہ آپ کو آزاد کروا ئیں تو اس نے چند محافظوں کے ساتھ آپ کو کا بل روانہ کر دیا۔مولوی عبدالجلیل خان صاحب جو آپ کے خادمِ خاص تھے بھی آپ کے ہمراہ کا بل روانہ ہوئے۔جو محافظ سوار آپ کے ساتھ کا بل گئے تھے وہ آپ کی بعض کرامات بیان کیا کرتے تھے۔ان کا بیان تھا کہ دو مرتبہ حضرت صاحبزادہ صاحب ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔بعد میں آپ نے فرمایا کہ میں اپنی خوشی سے تمہارے ساتھ جا رہا ہوں تم مجھے میری مرضی کے خلاف زبردستی نہیں لے جا سکتے۔چنانچہ آپ کے محافظ نہایت ادب اور احتیاط کے ساتھ آپ کو کابل لے گئے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کو کم و بیش ایک مہینہ یا ڈیڑھ مہینہ خوست کی چھاؤنی میں رکھا گیا تھا۔(۹۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: وو راویوں نے بیان کیا ہے کہ جب شہید مرحوم کابل کے بازار سے گزرے تو گھوڑے پر سوار تھے اور ان کے پیچھے آٹھ سرکاری سوار تھے اور ان کی تشریف آوری سے عام طور پر کابل میں مشہور تھا کہ امیر صاحب نے اخوند زادہ صاحب کو دھوکہ دے کر بلا یا ہے۔اب بعد اس کے دیکھنے والوں کا یہ بیان ہے کہ جب اخوند زادہ صاحب مرحوم بازار سے گزرے تو ہم اور دوسرے بہت سے بازاری لوگ ساتھ چلے گئے اور یہ بھی بیان کیا کہ آٹھ سرکاری سوارخوست سے ہی ان کے ہمراہ کئے گئے تھے۔کیونکہ ان کے خوست میں پہنچنے سے پہلے حکم سرکاری ان کے گرفتار کرنے کے لئے حاکم خوست کے نام آچکا تھا۔(۹۶)