شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 99
99 60 حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی کا بل میں قید اور مافوق العادت استقامت جب حضرت صاحبزادہ صاحب کابل پہنچے تو پہلے ان کو سردار نصر اللہ خان نائب السلطنت کے پاس لے جایا گیا۔اس نے بغیر کسی تحقیقات کے حکم دیا کہ آپ کا تمام سامان زاد راہ اور گھوڑا وغیرہ ضبط کر لیا جائے اور ارک یعنی قلعہ شاہی کے قید خانہ جو تو قیف خانہ کہلاتا تھا میں قید کر دیا جائے۔آپ کے خادم خاص عبدالجلیل خان صاحب کو عام جیل میں قید کر دیا گیا - (۹۷) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔” جب امیر صاحب کے روبرو پیش کئے گئے تو مخالفوں نے پہلے سے ہی ان کے مزاج کو بہت کچھ متغیر کر رکھا تھا اس لئے وہ بہت ظالمانہ جوش سے پیش آئے اور حکم دیا کہ مجھے ان سے بُو آتی ہے ان کو فاصلہ پر کھڑا کرو۔پھر تھوڑی دیر کے بعد حکم دیا کہ ان کو اس قلعہ میں جس میں خو دا میر صاحب رہتے ہیں قید کر دو اور زنجیر غراغراب لگا دو۔یہ زنجیر وزنی ایک من چوبیس سیر انگریزی کا ہوتا ہے۔گردن سے کمر تک گھیر لیتا ہے اور اس میں ہتھکڑی بھی شامل ہے۔اور نیز حکم دیا کہ پاؤں میں بیٹری وزنی آٹھ سیر انگریزی کی لگا دو۔پھر اس کے بعد مولوی صاحب مرحوم چار مہینہ قید میں رہے اور اس عرصہ میں کئی دفعہ ان کو امیر کی طرف سے فہمائش ہوئی کہ اگر تم اس خیال سے تو بہ کرو کہ قادیانی در حقیقت مسیح موعود ہے تو تمہیں رہائی دی جائے گی۔مگر ہر ایک مرتبہ انہوں نے یہی جواب دیا کہ میں صاحب علم ہوں اور حق و باطل کی شناخت کرنے کی خدا نے مجھے قوت عطا کی ہے، میں نے پوری تحقیق سے معلوم کر لیا ہے کہ یه شخص در حقیقت مسیح موعود ہے۔اگر چہ میں جانتا ہوں کہ میرے اس پہلو کے اختیار کرنے میں میری جان کی خیر نہیں ہے اور میرے اہل وعیال کی بربادی ہے مگر میں اس وقت اپنے ایمان کو اپنی جان اور ہر ایک دنیوی راحت پر مقدم سمجھتا ہوں۔شہید مرحوم نے نہ ایک دفعہ بلکہ قید