شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 97
97 اور عرض کی کہ ہم آپ کو اور آپ کے اہل وعیال کو یہاں سے نکال کر لے جائیں گے۔گورنر ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ہماری تعداد زیادہ ہے لیکن حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے دین کی خدمت ضرور لے گا اس لئے تم ایسا کوئی منصوبہ نہ باندھو۔یہ نہ ہو کہ اس جگہ بھی ہم سے زیادتی ہو۔(۹۲) حضرت صاحبزادہ صاحب کے بڑے بیٹے صاحبزادہ محمد سعید جان صاحب جن کی عمر ۱۵/ ۱۶ سال تھی وہ اور آپ کے ایک غیر احمدی رشتہ دار صاحبزادہ سید مزمل صاحب حاکم خوست کو ملے اور حضرت صاحبزادہ صاحب سے ملنے کی اجازت چاہی۔حاکم نے اجازت دے دی اور ایک کپتان کو مقرر کیا کہ وہ ملاقات کروا دے۔وہ اندر گئے تو دیکھا کہ آپ ایک چھوٹے سے کمرے میں محبوس ہیں اور ہتھکڑی پڑی ہوئی ہے۔آپ نہایت سکون اور تضرع کے ساتھ نماز ادا کر رہے ہیں۔صاحبزادہ سید مزمل ایک بارسوخ سردار تھا۔جب نماز سے فارغ ہوئے تو اس نے عرض کی کہ میں اس واسطے آیا ہوں کہ آپ کو قید سے نکلواؤں۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ میرا یہاں سے نکالنا ناممکن ہے۔صاحبزادہ مزمل نے کہا کہ آپ اس کی فکر نہ کریں۔اگر آپ اجازت دیں تو میں حاکم خوست کو بتا کر علی الاعلان آپ کو نکلوا سکتا ہوں۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ میں خود ہی نکلنا نہیں چاہتا۔میں کابل جا کر امیر حبیب اللہ خان کو تبلیغ کرنا چاہتا ہوں اس لئے تم مجھے نکالنے کی کوشش نہ کرو۔صاحبزادہ مزمل نے عرض کی کہ امیر آپ کی بات نہیں سنے گا۔وہ آپ کو قتل کروا دے گا لیکن حضرت صاحبزادہ صاحب نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔(۹۳) اسی طرح وزیری قوم کا ایک سردار جو آپ کا مخلص معتقد تھا آپ کو ملنے آیا۔اس نے عرض کیا کہ میرے لئے آپ کو رہا کرانا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔اگر آپ اجازت دے دیں تو میں آپ کو علی الاعلان اس قید سے نکال سکتا ہوں لیکن آپ نے اس سے بھی یہی فرمایا کہ میں یہ نہیں چاہتا۔(۹۴)