شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 93 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 93

93 سچا پایا۔ان کے ملنے سے مجھے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل ہوا۔سو میں آپ کو آگاہ کرتا ہوں کہ یہ وہی ہے جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد آنے کی پیشگوئی فرمائی تھی اور جس کے آنے کا لوگ انتظار کیا کرتے تھے۔میں اس پر ایمان لے آیا ہوں۔آپ کو بھی چاہئے کہ اسے مان لیں تا اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بیچ جائیں ، آپ کی بہتری اسی میں ہے۔میرا فرض آپ کو یہ پیغام پہنچانا تھا۔میں اپنے فرض سے سبکدوش ہوتا ہوں۔یہ خطوط آپ نے عبد الغفار خان صاحب برادر مولوی عبدالستار خان صاحب کو دئے جو انہیں لے کر بلا توقف کا بل روانہ ہو گئے۔اس وقت سردی کا موسم تھا اور برف پڑی ہوئی تھی۔مولوی عبدالغفار صاحب نے کابل جا کر یہ خطوط مکتوب الیہم کو پہنچا دئے۔مولوی صاحب ان تمام لوگوں کو خوب جانتے تھے۔مرزا محمد حسین خان کو توال نے مولوی عبدالغفار خان صاحب سے کہا کہ تم واپس چلے جاؤ خط کا جواب صاحبزادہ صاحب کو ڈاک کے ذریعہ بھیجوا دیا جائے گا۔مولوی عبد الغفار خان صاحب نے واپس آ کر حضرت صاحبزادہ صاحب سے عرض کی کہ مجھے تو ان خطوط کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔البتہ مرزا محمد حسین خان نے کہا تھا کہ تم واپس چلے جاؤ جواب ڈاک کے ذریعہ بھجوا دیا جائے گا۔یہ سن کر حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ مجھے تو خطرہ معلوم ہوتا ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی گرفتاری اور کا بل بلائے جانے کا فیصلہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے جو خطوط سرداران کابل کے نام بھجوائے تھے وہ تمام امیر حبیب اللہ خان اور سردار نصر اللہ خان کو پہنچا دئے گئے۔امیر نے اپنے با اعتما دمولویوں کو بلا کر دکھائے اور ان کی رائے دریافت کی تو انہوں نے عرض کی کہ یہ مدعی جس کا ان خطوط میں ذکر ہے آدھا قرآن مانتا ہے اور آدھا نہیں مانتا اس لئے (نعوذ باللہ ) کا فر ہے اور جو شخص