شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 80 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 80

80 تو وہ ایسا چمکتا تھا جیسے آفتاب - ہماری آنکھیں خیرہ ہو گئیں اور ہم نے نظر نیچی کر لی۔ایک مرتبہ رات کے وقت بھی ایسا واقعہ ہوا۔آپ مہمان خانہ میں کوٹھڑی میں تشریف رکھتے تھے۔اور یہ زمانہ ان کے کمال عشق کی حالت کا تھا۔آپ نے فرمایا میرے ماتھے کی طرف دیکھو۔جب میں نے اور عبدالجلیل نے نظر کی تو ایک بہت بڑے روشن ستارے کی طرح معلوم ہو ا بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ہمارے ساتھ وزیر محمد ( وزیری ملا ) بیٹھا ہوا تھا۔اس نے کہا کہ مجھے نظر نہیں آیا۔اس پر آپ نے فرمایا شما تقومی نه دارید (یعنی تمہیں تقوی نصیب نہیں ) - (۶۲) حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف صاحب کے قادیان آنے کے بارہ میں ایک انگریز انجینئر کا بیان اور ایک کشفی واقعہ کا ذکر ایک انگریز انجینئر جس کا نام Mr۔Frank A۔Martin تھا ان دنوں کابل میں موجود تھا۔یہ آٹھ سال تک یہ سلسلہ سرکاری ملازمت کے افغانستان میں مقیم رہا اور امیر عبدالرحمن اور امیر حبیب اللہ خان کا مقرب تھا۔اس نے انگلستان واپس جا کر ایک کتاب "Under The Absolute Amir" کے نام سے لکھ کر شائع کروائی۔اس میں وہ اپنے زمانہ اقامت کابل کے حالات لکھتا ہے۔اس نے حضرت صاحبزادہ صاحب کا ذکر بھی کیا ہے اس کی تحریر بعض تفاصیل میں دیگر روایات سے اختلاف رکھتی ہے لیکن کافی حد تک صداقت اس کے اندر موجود ہے۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے بارہ میں اس بیرونی شہادت کو بھی درج کر دیا جائے - Mr۔Frank A۔Martin بیان کرتا ہے کہ : افغانستان کے ایک بہت بڑے اور اثر و رسوخ رکھنے والے ملا (صاحب) مکہ مکرمہ کے حج کے لئے روانہ ہوئے۔ہندوستان میں سفر کرتے ہوئے انہوں نے ایک مقدس شخصیت کے بارہ میں سنا جو حضرت مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے بارہ میں تبلیغ کرتے تھے۔اور کہتے تھے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے۔