شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 79 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 79

79 سید احمد نور صاحب بیان کرتے ہیں کہ قادیان میں حضرت صاحبزادہ صاحب کو کشوف والہامات ہوتے تھے۔ایک دن سو کر اٹھے تو بتایا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور پھر یہ الہام ہوا: جِسْمُهُ مُنَوَّرٌ مُعَذِّبَرٌ مُعَطَّرٌ يُضِي مَا الْمُوْلُوءِ الْمَكْنُونَ ایک روز حضرت صاحبزادہ صاحب نے مولوی عبدالستار خان سے کہا کہ میرے چہرے کی طرف دیکھو۔مولوی صاحب دیکھنے لگے لیکن دیکھ نہ سکے اور نظریں نیچی ہو گئیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب کا چہرہ سورج کی طرح روشن تھا۔اسے دیکھنے سے آنکھیں چندھیا جاتی تھیں۔مولوی عبدالستار خان صاحب نے سُبحان الله، سُبحان اللہ کہنا شروع کر دیا۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ سیر کو گئے۔جب واپس آئے تو اپنے ساتھیوں کو مہمان خانہ میں ایک کشف سنایا کہ جنت کی ایک حور جو بہت اچھے لباس میں تھی میرے سامنے آئی اور کہا کہ آپ میری طرف دیکھیں تو میں نے اس سے کہا کہ جب تک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ہوں تیری طرف نہیں دیکھ سکتا تب وہ روتی ہوئی چلی گئی - (۶۰) مولوی عبدالستار خان صاحب کی روایت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے حضرت شہید کو بڑی محبت تھی۔ان کا رنگ عاشقانہ رنگ تھا اور جب وہ حضور کی مجلس میں بیٹھتے تھے تو ان کی حالت اور کی اور ہو جاتی تھی۔فرمایا کرتے تھے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جس رنگ میں دیکھا ہے کسی نے نہیں دیکھا۔صاحبزادہ صاحب کا شعر ہے عطرے نورے دہم اعظم سرمہ چشم کرم برقی تیغے روئے خوباں شکر شاہ ارم صاحبزادہ صاحب جب حضور کی مجلس میں بیٹھتے تو حضور کے پاؤں دبایا کرتے (41)-2 مولوی عبدالستار خان صاحب کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ صاحبزادہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے باغ کی طرف سیر کو جارہے تھے تو راستہ میں مجھے اور عبدالجلیل سے کہا کہ میرے ماتھے کی طرف دیکھو کہ تم اس کو دیکھنے کی طاقت رکھتے ہو۔جب ہم نے دیکھا