شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 70 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 70

70 کہہ دیا کہ ان کو قادیان نہ لے جائے۔اس پر سید احمد نور پیدل ہی قادیان روانہ ہو گئے۔سید احمد نور حضرت صاحبزادہ صاحب کے قادیان پہنچنے کے دس پندرہ دن بعد عصر کے وقت قادیان پہنچے اور حضرت صاحبزادہ صاحب کو ملے۔آپ نے ان کو مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا اور عرض کی کہ حضور ان کی بیعت لے لیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ کچھ دن ٹھہریں۔اس پر صاحبزادہ صاحب نے عرض کی کہ حضور یہ اس قسم کا آدمی نہیں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سید احمد نور کی بیعت لے لی - (۳۸) حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکٹی کا بیان ہے کہ : ” جب سید عبداللطیف صاحب قادیان میں تشریف فرما تھے میں بھی قادیان میں گیا ہوا تھا۔حضرت سید عبداللطیف صاحب اور میں دونوں ایک ہی کمرہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔میرے پاس ایک چھوٹی سی حمائل ہو ا کرتی تھی۔میں اس کی تلاوت کیا کرتا۔حضرت مولوی صاحب بھی قرآن مجید یا حضرت صاحب کی کتب کا مطالعہ کرتے۔حضرت اقدس جب نماز کے وقت تشریف لاتے تو بعض دفعہ سید عبداللطیف کی خاطر فارسی زبان میں بھی کچھ فقرات فرما دیتے۔" ” جب حضور جہلم تشریف لے گئے تو وہاں بھی حضرت سید عبدالطیف صاحب حضرت اقدس کے ساتھ تھے۔میں بھی تھا۔عدالت کی کوٹھیوں کے پاس لوگوں کی درخواست پر حضرت اقدس نے تقریر فرمائی تو پہلے حضرت سید صاحب کی خاطر فارسی زبان میں تقریر شروع فرمائی تھی لیکن فارسی سمجھنے والے چونکہ بہت کم لوگ تھے اس لئے حضرت مولوی عبد اللطیف نے عرض کیا کہ حضور میں اردو سمجھ لیتا ہوں، حضور اردو میں تقریر فرمائیں ، دوسرے لوگوں کی بھی یہی خواہش تھی۔حضرت مولوی عبداللطیف صاحب کا یہ شیوہ تھا کہ حضرت اقدس کی طرف منہ کر کے بیٹھتے تھے اور ہمہ تن گوش ہو کر حضور کی باتوں کے سننے میں محو ہو جاتے۔کبھی کبھی آپ کی