شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 69
69 ایمان قوی ہوا اور علم عمل پر مقدم ہے سو میں نے ان کو مستعد پا کر جہاں تک میرے لئے ممکن تھا اپنے معارف ان کے دل میں ڈالے‘ - (۳۵) وو وہ بار بار کہتے تھے کہ کیسے نادان وہ لوگ ہیں جن کا خیال ہے کہ مسیح موعود کی پیشگوئی صرف حدیثوں میں ہے حالانکہ جس قدر قرآن شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عیسی فوت ہو گیا اور مسیح موعود اسی امت میں سے آنے والا ہے اس قدر ثبوت حدیثوں سے نہیں ملتا۔غرض خدا تعالیٰ نے ان کے دل کو حق الیقین سے پر کر دیا تھا اور وہ پوری معرفت سے اس طرح پر مجھے شناخت کرتے تھے جس طرح در حقیقت ایک شخص کو آسمان سے اترتا مع فرشتوں ،، کے دیکھا جاتا ہے۔(۳۶) مولوی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب جب قادیان میں آئے تو صرف ان کو یہی فائدہ نہ ہوا کہ انہوں نے مفصل طور پر میرے دعوی کے دلائل سنے بلکہ ان چند مہینوں کے عرصہ میں جو وہ قادیان میرے پاس رہے اور ایک سفر جہلم تک بھی میرے ساتھ کیا۔بعض آسمانی نشان بھی میری تائید میں انہوں نے مشاہدہ کئے۔ان تمام براہین اور انوار اور خوارق کے دیکھنے کی وجہ سے وہ فوق العادت یقین سے بھر گئے اور طاقت بالا ان کو کھینچ کر لے گئی‘ - (۳۷) سید احمد نور صاحب نے جب اپنے گاؤں میں سنا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب حج کے لئے روانہ ہو گئے ہیں تو ان کو یقین ہوا کہ آپ راستہ میں قادیان بھی جائیں گے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات کریں گے اس پر سید احمد نور بھی قادیان جانے کے لئے چل پڑے۔جب بٹالہ پہنچے تو ایک مخالف مولوی انہیں ملا اور پوچھا کہ تم کہاں جا رہے ہو۔سید احمد نور نے جواب دیا کہ قادیان جا رہا ہوں۔اس پر اس مولوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں بعض ناشائستہ کلمات کہے اور سید احمد نور کو قادیان جانے سے منع کیا۔انہوں نے مولوی کو جواب دیا کہ تم خدا کی باتوں سے روکتے ہو میں ہزاروں میل سے قادیان جانے کے ارادہ سے آیا ہوں۔قادیان قریب ہے کیسے نہ جاؤں۔اس مولوی نے یکہ والے کو