شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 42 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 42

42 صاحب نے ان کے حالات کی تحقیق کی ضرورت محسوس کی۔چنانچہ آپ نے ان سے نرمی اور محبت کا تعلق رکھنا شروع کیا۔جو لوگ آپ کے پاس آتے آپ انہیں قرآن و حدیث کی طرف دعوت دیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ شیخان کا ایک عالم آپ کے پاس آیا اور عرض کی کہ صاحبزادہ صاحب آپ کو ہمارے استاد پیر صاحب مانڑ کی سے ملنا چاہئے جو اس وقت سوات کے آخون صاحب کے مؤذن ہیں۔چنانچہ صاحبزادہ صاحب ان سے ملنے کے لئے روانہ ہوئے۔اثناء سفر میں جگہ جگہ شیخان آپ کو ملتے رہے۔وہ آپ کی بہت عزت کرتے تھے اور اس بات پر خوش ہوتے تھے کہ اتنا بڑا آدمی ہمارے پیر کا شاگرد بننے کے لئے جا رہا ہے۔حالانکہ آپ کا مقصد ان کے حالات معلوم کرنا تھا۔وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا شیخان کے مولوی جن مخصوص عقائد کی افغانستان میں تعلیم دیتے ہیں وہ واقعی پیر صاحب مانٹر کی کے عقائد ہیں یا یہ امور ان کی طرف غلط منسوب کئے جاتے ہیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب فرماتے تھے کہ جب میں پیر صاحب سے ملا تو معلوم ہوا کہ بظاہر وہ اچھے آدمی ہیں اور ان کے منہ سے میں نے کوئی ایسی بات نہیں سنی جو شیخان ان کی طرف منسوب کیا کرتے تھے۔میں چند روز ان کے پاس رہ کر واپس آ گیا۔جب حضرت صاحبزادہ صاحب واپس آئے تو شیخان پہلے سے زیادہ تعداد میں آپ کے پاس آنے لگے۔ان کا خیال تھا کہ آپ ان کے پیر سے مل کر آئے ہیں اس لئے ان کی باتیں سننی چاہیں۔جب شیخان کے مخصوص مسائل کے بارہ میں فتویٰ پوچھا جاتا تو حضرت صاحبزادہ صاحب کی رائے سن کر ان کو تعجب ہوتا اور وہ کہتے کہ مانکی کے پیر صاحب تو یوں کہتے ہیں لیکن آپ اُن کی رائے کے خلاف فتوی دیتے ہیں۔اس پر حضرت صاحبزادہ صاحب نے ایک دفعہ پھر سفر کیا۔آپ اس امر کی تحقیق کرنا چاہتے تھے کہ آیا ان باتوں کی پیر صاحب خود تعلیم دیتے ہیں یا یہ لوگ ان کی طرف غلط طور پر منسوب کرتے ہیں۔جب آپ دوسری مرتبہ ان کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا کہ مانکی صاحب کے پاس ایک اور مولوی صاحب آئے ہوئے ہیں جو سوٹا کے پیر صاحب کے نام سے مشہور