شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 43
43 ہیں۔سوٹا صوبہ سرحد میں صوابی کے نزدیک ایک مقام ہے۔ان دونوں پیروں کے درمیان مذکورہ بالا اختلافی مسائل پر جھگڑا ہو رہا تھا۔بحث کے مقام پر دونوں فریقوں کے ہزار ہا حامی موجود تھے۔بالآ خر با ہم یہ طے پایا کہ تصفیہ کے لئے کسی تیسری جگہ جانا چاہئے اور صحیح مسلک معلوم کرنا چاہئے۔دریں اثنا حضرت صاحبزادہ صاحب وہاں پہنچ گئے۔انہوں نے جھگڑ اسن کر کہا کہ یہیں پر کتا بیں دیکھ کر معلوم کر لیتے ہیں کہ صحیح راستہ کون سا ہے ، جھگڑا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔آپ نے متنازع فیہ مسائل کے حل کے لئے بہت سی کتابوں کے حوالے پیش کئے لیکن پیر صاحب مانکی نے انہیں ماننے سے انکار کر دیا۔تب حضرت صاحبزادہ صاحب کا دل ان سے پھر گیا اور ان کو یقین ہو گیا کہ وہ صداقت کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہو نگے۔مجلس مباحثہ میں حضرت صاحبزادہ صاحب نے ان مولویوں کو کشفاً بندروں کی شکل میں دیکھا تھا۔انگریزی حکومت کو رپورٹ ملی کہ جھگڑا بڑھ گیا ہے، ہزاروں لوگ جمع ہیں اور فساد کا اندیشہ ہے تو اس نے حکم دے کر تمام مجمع منتشر کر وا دیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب بھی واپس روانہ ہو گئے۔پشاور میں آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رویا میں دیکھا ، حضور نے فرمایا کہ یہ لوگ تو مبتدع ہیں ان کو یونہی کیوں چھوڑ کر آ گئے۔اس پر حضرت صاحبزادہ صاحب واپس گئے اور ان کو یہ پیغام پہنچایا کہ میں تمہارے غلط عقائد اور تمہاری لمبی لمبی تسبیحوں سے بیزار ہوں۔یہ پیغام دے کر واپس وطن کی طرف روانہ ہو گئے۔راستہ میں جابجا شیخان کے غلط عقائد کی تردید بیان کرتے رہے۔بعض لوگوں نے آپ سے عرض کی کہ آپ کی باتیں تو درست ہیں لیکن شیخان اس علاقے میں بکثرت پھیلے ہوئے ہیں ان کی مخالفت کرنا خطرناک دشمنی مول لینا ہے لیکن حضرت صاحبزادہ صاحب اپنے طریق پر جرات سے قائم رہے۔جب آپ وطن پہنچے تو شیخان کی تردید میں بہت کام کیا۔اپنے شاگردوں کو متعلقہ مسائل لکھوا دئے تا کہ وہ ضرورت پڑنے پر شیخان سے گفتگو کرسکیں اور ان کے غلط اور خلاف اسلام عقائد کا رد کر سکیں۔شیخان آپ کے شاگردوں کو بہت تنگ کرتے تھے۔