شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 322 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 322

322 اسی روز کابل میں داخل ہو کر ارک پر قبضہ کر لیا۔اور امیر عنایت اللہ خان نے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔بچہ سقا ؤ نے عنایت اللہ خان کو یہ پیش کش کی کہ اگر وہ چاہے افغانستان میں رہ سکتا ہے اس کا وہی درجہ اور مرتبہ بحال رہے گا جو امیر امان اللہ خان کے وقت میں تھا اور اگر افغانستان میں نہ رہنا چاہے تو بحفاظت افغانستان سے باہر جا سکتا ہے اس صورت میں اس کو تین لاکھ روپیہ سے زیادہ باہر لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی اور اس کی جملہ جائداد و جا گیر بچہ سقاؤ کی حکومت ضبط کر لے گی بچہ سقاؤ کے اس نوٹس کے بعد سردار عنایت اللہ خان نے ایک ڈاکو اور باغی کے ماتحت رہنا گوارا نہ کیا اور سر کا رانگریزی سے درخواست کی گئی کہ کابل سے نکلنے کے لئے سردار عنایت اللہ خان اور اس کے خاندان کے لئے ہوائی جہازوں کا انتظام کر دیں سردار عنایت اللہ خان اور انگریزوں کے مابین ملا شیر آقاہی کے ذریعے گفتگو ہوئی۔انگریزی سفارت خانے نے بخوشی خاطر یہ امداد دنیا قبول کر لی جملہ امور کے طے پانے کے بعد معین الطنت کی بادشاہت کے تیسرے دن صبح قریباً دس بجے محروم قسمت با دشاہ اور اس کے ہمرا ہی روتے دھوتے پشاور کی طرف پرواز کر گئے دُرانی پھر میرا جو ارک کے مشرقی برج پر اب تک لہرا رہا تھا اُتار دیا گیا۔(۸۴) دستبر دار بادشاہ امان اللہ خان قندھار میں امان اللہ خان جب سفر کی صعوبتیں اٹھاتا ہوا قندھار پہنچا تو اس سے قندھار کے لوگوں کو بے حد تعجب ہوا۔قلعہ قندھار کے محافظین نے چاہا کہ علم شاہی بلند کیا جائے تو امان اللہ خان نے ان کو روک دیا اور قندھار کے خوانین و معتبرین کی مجلس بلا کر کابل میں گزرا ہوا ماجرا سنایا جس میں بچہ سقاؤ کے حملے اپنے دستبردار ہونے اور برا در عنایت اللہ خان کے بادشاہ بننے کا تذکرہ تھا۔قندھار میں اس کو ابھی تین دن ہی ہوئے تھے کہ سردار عنایت اللہ خان کی دستبرداری