شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 282 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 282

282 ہے۔یہ خلاف انسانیت فعل جس کا کابل میں بار بار اعادہ کیا جارہا ہے۔ضرور کوئی عظیم الشان نتیجہ پیدا کر کے چھوڑے گا۔میں کابل کی گورنمنٹ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کا یہ فعل ہم کو سچائی سے پھیر نہیں سکتا ظلم نے کبھی سنجیدگی اور ایمان پر فتح نہیں پائی اور نہ اب وہ فتح پائے گا۔’ہر ایک سچا احمدی سچائی کے قیام اور ضمیر کی آزادی کی بحالی کے لئے اپنی جان دینے کے لئے تیار ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ میری جماعت میں سے ایک شخص بھی حریت ضمیر کی خاطر جان دینے سے دریغ کرے گا۔کابل گورنمنٹ بے شک ایک ایک کر کے سب احمدیوں کو سنگسار کر دے مگر وہ دیکھے گی کہ اس کا یہ فعل احمدیت کی اشاعت کا اور زیادہ موجب ہوگا۔اس کے یہ افعال مجھے ڈراتے نہیں بلکہ خوش کرتے ہیں کیونکہ گو جو لوگ مارے جا رہے ہیں وہ میرے روحانی بیٹے ہیں اور ان کی موت مجھے جسمانی بیٹوں کی موت سے بہت زیادہ صدمہ پہنچاتی ہے مگر پھر بھی میرا دل فخر سے بھر جاتا ہے۔جب میں دیکھتا ہوں کہ بانی سلسلہ کی قوت قدسیہ نے کس طرح ایمان کو ان لوگوں کے دلوں میں راسخ کر دیا ہے اور کس طرح دنیا کو خیالات کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے یہ لوگ اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا بھی اور ساری مہذب دنیا کا فرض ہے کہ وہ اس احسان کے بدلہ میں جو کابل کے احمدی شہداء نے بنی نوع انسان پر حریت ضمیر کے قائم رکھنے کے لئے ایسی ظالمانہ موت قبول کر کے کیا ہے۔ان کی اس جان بازی پر صدائے تحسین اور ان کے قانون کے خلاف صدائے نفرین بلند کرے۔میں ہرگز ہر گز گورنمنٹ کا بل یا وہاں کے متعصب ملانوں کے خلاف کینہ نہیں رکھتا۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ خود ان کو اُس روحانی اندھے پن سے بچانے کے لئے جس میں وہ مبتلا ہیں۔ضروری ہے کہ ان کو یہ محسوس کرایا جائے کہ ہر یک شریف انسان ان کے اس فعل کو نا پسند کرتا ہے اور اس سے بہت شدت سے متاثر ہے۔