شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 272 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 272

272 اس امر کی اجازت دیتی ہے کہ ایسے گروہ کی تکفیر کی جائے۔جو سلام کرنا تو در کنار ، قرآن پڑھتا ہے ، نمازیں ادا کرتا ہے، روزے رکھتا ہے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کے اسوہ حسنہ پر مواظبت کے ساتھ عامل ہے۔اشاعت اسلام کے لیے ہم سے زیادہ بے چین ہے۔کیا ایسے شخص کو جو اس قسم کے ایک اسلامی فرقہ کا ہم خیال ہو جائے اسے مرتد قرار دینا قرین انصاف ہے؟ اگر بفرض محال تھوڑی دیر کے لیے یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ احمدیت ارتداد کے مترادف ہے۔تاہم یہ سوال پیدا ہوتا ہے۔کہ کیا محض ارتداد کی سزا قتل یا رحم اسلامی تعلیم کی رو سے ثابت ہے؟ قرآن کریم میں تو ارتداد کے لیے کوئی دنیوی سزا نہیں بتائی گئی۔البتہ آخرت کی سزا کا ذکر آیا ہے۔ارشاد ہوتا ہے: ومن يرتدد منكم عن دينيه - فيمت وهو كافر فاولئك حبطت اعمالهم في الدنيا والآخرة نأو لئک اصحاب النار هم فيها خالدون جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے یا مرتد ہو جائے اور اسی حالت میں مر جائے۔ایسے لوگوں کے اعمال دنیا و آخرت میں ضائع ہو جاتے ہیں۔اور یہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔’ بجائے اس کے کہ مرتد کی سزار جم یا قتل ثابت ہو۔اس آیت میں فیمت کے لفظ پر غور کیا جائے تو رحم وقتل کی صریح نفی نکلتی ہے۔یعنی آخرت کی سزا بھی اسی صورت میں اس کو ملے گی کہ وہ ارتداد ہی کی حالت میں فوت ہو جائے اور اگر اپنی طبعی موت سے پہلے دوبارہ تائب ہو کر ایمان لے آئے تو سزائے آخرت سے بھی محفوظ ہو جائے گا۔رہی فقہ حنفیہ سوہ بھی۔۔۔اس خصوص میں رجم وقتل کی موید نہیں اس میں بھی جن حالات میں مرتد کے لیے قتل کی سزا تجویز کی گئی ہے وہ سیاسی ہیں مذہبی نہیں۔ہدایہ میں یہ الفاظ ہیں