شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 239
239 خون کا مطالبہ کرے اور وہ بادشاہ جو ایسے مطالبہ کو پورا کرے۔دنیا کی نظروں میں ہمیشہ ذلیل رہیں گے۔حیات بعد الموت کے متعلق میں یقین رکھتا ہوں کہ والی افغانستان اس آیت قرآنی کا مطلب سمجھنے کے لئے کا فی عربی جانتے ہیں۔مَنْ قَتَلْ مُؤْمِناً مُتعِمِّداً فَجزاهُ جَهَنَّم ’ جناب عالی ! یہ امر کہ افغان گورنمنٹ نے زیادہ عرصہ نہیں گذرا کہ آزادی ضمیر کا ممالک محروسہ میں اعلان کیا تھا اور یہ کہ جماعت احمدیہ کو بھی اس امر کا یقین دلایا تھا۔۳۱ اگست کے واقعہ کی کمینگی اور دھوکہ دہی میں اور بھی اضافہ کر دیتا ہے۔” جناب عالی ! یہ پہلا ہی واقعہ نہیں کہ آپ کے ملک میں بادشاہ کی منظوری سے خدا اور اس کی مخلوق کے خلاف ایسی بزدلانہ اور ذلیل غداری کو روا رکھا گیا ہو۔یہ خیال کیا جا سکتا تھا کہ وہ سزائے آسمانی جو سابق مجرم کو اس کے بدلہ میں دی گئی اس کے جانشینوں کو ایسے افعال سے باز رکھے گی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس سے کہیں سخت عذاب الہی فرمانروایان افغانستان کو انسانیت اور انصاف کے اصول ذہن نشین کرانے کے لیے درکار ہے۔” جناب عالی ! آج آپ کی قوم غالبا اس انسانیت سوز فعل پر شاداں و نازاں ہے۔جس نے والٹی افغانستان کے ہاتھوں کو ایک بے گناہ کے خون سے رنگ دیا ہے۔لیکن چاہیئے کہ خائف ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے اور اپنے فرمانروا کے گناہوں کی معافی چاہیں۔کیونکہ خدا کی چکی آہستہ پیستی ہے۔لیکن اس کا پسا ہوا بہت باریک ہوتا ہے‘ (۳۸) حضرت مولانا شیر علی صاحب قائمقام امیر جماعت احمد یہ ہندوستان کا امیر امان اللہ خان کو ٹیلی گرام مولوی نعمت اللہ خان کی شہادت کی خبر ملنے پر حضرت مولانا شیر علی صاحب نے جماعت احمدیہ کی طرف سے حسب ذیل ٹیلی گرام دیا: