شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 207 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 207

207 پڑیں۔پھر یہ بھی امکان تھا کہ انگریز جو اس وقت افغانستان کے سیاسی امور میں دخیل تھے اور خارجہ پالیسی انہی کے اختیار میں تھی اس کی امارت کو تسلیم نہ کریں۔ان خطرات سے بچنے کے لیے اور افغان قوم کی توجہ بدلنے کے لیے اس نے جہاد کا اعلان کر کے انگریزوں سے جنگ چھیڑ دی جس میں نہ صرف افغانستان کی فوج شامل تھی بلکہ قبائلی لشکر بھی اپنے ملاؤں کے زیر اثر جہاد کے لیے نکل پڑے تھے غرض یہ تھی کہ ایک تو افغان قوم اور قبائلی علاقوں کے لوگوں کی مدد اس کو حاصل ہو جائے دوسرے انگریزوں کو مجبور کر کے خارجی خود مختاری منوالی جائے تیسرے یہ کہ ڈیورنڈ لائن میں رد و بدل کر کے افغانستان کو صوبہ سرحد اور قبائلی علاقہ کا کچھ زائد حصہ مل جائے۔جنگ عظیم ثانی کے بعد ہندوستان میں انگریزی فوج کی طاقت معمول سے کم تھی نفری بھی تھوڑی تھی اور سامان حرب بھی تھوڑا تھا۔چونکہ افغانستان نے پہلے حملہ کیا تھا اس لیے شروع میں ان کو کامیابی ہوئی اور تینوں محاذوں پر افغانی چند میل آگے بڑھ گئے۔ان میں سے ایک خیبر کا محاذ تھا جس کی کمان سردار محمد صالح خان کر رہے تھے۔دوسرا گرم اور ٹل کا محاذ تھا جس کے قائد جنرل محمد نادر خان تھے جس کی قیادت سردار عبدالقدوس خان شاہ خاصی کے سپر دتھی۔لیکن چند ہفتوں کے اندراندر انگریزی فوج بہت سرعت سے دوسرے مقامات سے سرحدوں پر جمع ہو گئی اور ان کے جوابی حملہ سے افغان فوج کو پیچھے ہٹنا پڑا انگریز چند پرانے ہوائی جہاز بھی جنگ میں لے آئے اور کابل - جلال آباد اور بعض دوسرے مقامات پر بم گرائے جن سے دہشت پھیل گئی اور جانی و مالی نقصان بھی ہوا۔اور تھوڑے عرصہ میں لڑائی کا پانسہ پلٹ گیا۔اس پر امیر امان اللہ خان نے جنگ بندی کا فیصلہ کر لیا چنانچہ امیر کی طرف ۲۱ مئی 1919 ء کو وائسرائے ہند کو لکھا گیا کہ افغانستان لڑائی ختم کرنے کو تیار ہے کچھ عرصہ خط و کتابت کے بعد دونوں فریق جنگ بندی پر راضی ہو گئے اور اس بات پر متفق ہوئے کہ طرفین کے نمائندے راولپنڈی میں جنگ بندی کی گفت و شنید کے لیے اکٹھے ہوں اس صلح میں افغانستان کا نمائندہ سردار علی احمد جان تھا جو امیر امان اللہ خان کی والدہ علیا حضرت کا بھتیجا