شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 205
205 گیا پھر ان کو بعض سفارشات کی بناء پر کابل آنے کی اجازت دی گئی اور وہ کا بل میں جلا وطنی کی زندگی گزارتے رہے۔۱۹۱۸ء میں امیر حبیب اللہ خان اور سردار نصر اللہ خان ان کے بارہ میں بعض شبہات میں مبتلا ہو گئے اور امیر حبیب اللہ خان نے پانچوں صاحبزادوں یعنی محمد سعید جان صاحب عبد السلام صاحب جان محمد عمر جان صاحب، محمد طیب جان صاحب اور ابوالحسن قدسی صاحب کو شیر پور کی جیل میں ایک نہایت تکلیف دہ قید میں ڈال دیا۔بالآخر سردار امان اللہ خان نے جب وہ کابل کا گورنر تھا ان کی رہائی کی کوشش کی اور سردار نصر اللہ خان سے بات کر کے ان کو ۱۹۱۸ء میں رہا کر دیا۔لیکن افسوس کہ شہید مرحوم کے دو صاحبزادے محمد سعید جان جو سب سے بڑے تھے اور محمد عمر جان جو آپکے تیسرے بیٹے تھے رہائی کے کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گئے ان کی وفات ان عوارض کے نتیجہ میں ہوئی جو ان کو قید کے دوران لاحق ہو گئے تھے۔فروری ۱۹۱۹ ء میں امیر امان اللہ خان بادشاہ بن گیا تو اس نے کچھ عرصہ بعد خوست کے علاقہ کے بعض سرداروں کی سفارش پر جو اس کی بیعت کے لیے اپنے وطن سے آئے تھے تینوں صاحبزادگان اور ان کے خاندان کے دوسرے افراد کو اپنے وطن خوست جانے کی اجازت دے دی اور ان کی جائیدادیں بھی واپس کر دیں اس طرح یہ لوگ ۱۹۲۳ء تک نسبتاً امن و امان سے اپنے گھروں میں رہتے رہے۔(1) افغانستان کی تیسری جنگ امیر امان اللہ خان نے امیر بننے کے کچھ عرصہ بعد ہندوستان کی سرحد پر انگریزوں کی حکومت سے جنگ چھیڑ دی جسے افغانستان کی تیسری جنگ کہا جاتا ہے۔لڑائی مئی 1919 ء میں شروع ہوئی مؤرخین کی رائے ہے کہ امیر امان اللہ خان جن حالات میں بادشاہ بنا ان کی وجہ سے وہ کئی خطرات سے دو چار تھا۔پہلی بات تو یہ تھی کہ شاید تمام افغانی قوم ان کی بادشاہت تسلیم نہ کرے اور سلطنت کے مختلف دعویدار کھڑے ہو جائیں۔اور امیر کو ان سے جنگیں لڑنی