شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 204
204 برداشت نہ کر سکیں۔اور انہوں نے امیر مقتول کے خلاف سازشیں شروع کر دی تھیں۔جن کا انجام بالآخر امیر حبیب اللہ خان کے خاتمہ پر منتج ہوا اور علیا حضرت کا اپنا بیٹا امان اللہ خان با دشاہ بن گیا۔آپ شروع میں اپنے بیٹے امان اللہ خان کے کاروبار حکومت میں بہت دخیل رہیں۔آپ کی ایک لڑکی ان کے بھتیجے سردار علی احمد جان سے بیاہی گئی تھی۔اور منجھلی صاحبزادی جنرل محمد نادر خان سپہ سالا را افغانستان کے چھوٹے بھائی سردار شاہ ولی خان سے شادی شدہ تھی۔علیا حضرت کو سردار محمود خان طرزی وزیر خارجہ کے خاندان سے کچھ کر تھا۔سردار محمود خان طرزی امیر امان اللہ خان کے خسر اور ملکہ ثریا کے والد تھے۔ملکہ ثریا بھی امیر کے مزاج پر بہت حاوی تھیں۔عزیز ہندی صاحب نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ جب امیر حبیب اللہ خان انگریزوں کی دعوت پر 1906ء میں ہندوستان کی سیاحت کو گئے تھے تو واپس آکر ان میں ایک تبدیلی آگئی تھی اور وہ یہ کہ وہ سیاحت کے بعد رنگین مزاج ہو گئے تھے۔اور یہ رنگین مزاجی ہی ان کے قتل کا باعث بن گئی تھی۔(۴) سردار نصر اللہ خان برادر امیر حبیب اللہ خان کے بارہ میں اخباری رپورٹ ۲۳ اپریل ۱۹۱۹ ء کا اخبار پائینیر الہ آبا در قم طراز ہے کہ ۱۳ اپریل کو کابل میں ایک در بار عام امیر امان اللہ خان کے حکم سے منعقد کیا گیا۔اس میں سردار نصر اللہ خان کے متعلق یہ بیان کیا گیا۔کہ وہ امیر حبیب اللہ خان کے قتل میں ملوث تھا اور اس کو حبس وام کی سزا دی گئی۔اس قسم کی سزا اس کے پیش خدمت لڑکے کو بھی دی گئی۔جو شریک جرم تھا۔ایک افغانی کرنل کو جس نے قتل کیا تھا۔سزائے موت دی گئی۔(۵) حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف شہید کے خاندان سے امان اللہ خان کا سلوک حضرت صاحبزادہ صاحب کا خاندان امیر حبیب اللہ خان کے زمانہ میں ۱۹۰۳ء سے کئی سال جلا وطن رہا پہلے ان کو مزار شریف کے علاقہ میں جو جانب ترکستان واقع ہے رکھا