شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 17 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 17

17 عبدالرحمن بھی بکری سے مشابہت رکھتا تھا۔اس لئے ان کو بکری کے نام سے یاد کیا گیا۔اور چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ اس راقم اور اس کی جماعت پر اس ناحق کے خون سے بہت صدمہ گزرے گا۔اس لئے اس وحی کے مابعد آنیوالے فقروں میں تسلی اور عزا پرسی کے رنگ میں کلام نازل فرمایا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اس مصیبت اور اس سخت صدمہ سے تم غمگین اور اداس مت ہو کیونکہ اگر دو آدمی تم میں سے مارے گئے تو خدا تمہارے ساتھ ہے۔وہ دو کے عوض ایک قوم تمہارے پاس لائے گا اور وہ اپنے بندہ کے لئے کافی ہے۔کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے اور یہ لوگ جوان دومظلوموں کو شہید کریں گے۔ہم تجھ کو ان پر قیامت میں گواہ لائیں گے کہ کس گناہ سے انہوں نے شہید کیا تھا۔۔پھر بعد اس کے فرمایا کہ ان شہیدوں کے مارے جانے سے غم مت کرو ان کی شہادت میں حکمت الہی ہے اور بہت باتیں ہیں جو تم چاہتے ہو کہ وہ وقوع میں آویں۔حالانکہ ان کا واقع ہونا تمہارے لئے اچھا نہیں ہوتا اور بہت امور ہیں جو تم چاہتے ہو کہ وہ واقع نہ ہوں۔حالانکہ ان کا واقع ہونا تمہارے لئے اچھا ہوتا ہے اور خدا خوب جانتا ہے کہ تمہارے لئے کیا بہتر ہے۔مگر تم نہیں جانتے۔اس تمام وحی الہی میں یہ سمجھایا گیا ہے کہ صاحبزادہ مولوی عبداللطیف مرحوم کا اس بے رحمی سے مارا جانا اگر چہ ایسا امر ہے کہ اس کے سننے سے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔لیکن اس خون میں بہت برکات ہیں کہ بعد میں ظاہر ہوں گی اور کابل کی زمین دیکھ لے گی کہ یہ خون کیسے کیسے پھل لائے گا۔یہ خون کبھی ضائع نہیں جائے گا۔پہلے اس سے غریب عبدالرحمن میری جماعت کا ظلم سے مارا گیا۔اور خدا چپ رہا۔مگر اس خون پر اب وہ چپ نہیں رہے گا اور بڑے بڑے نتائج ظاہر ہوں گے۔‘‘ (۵) سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام براہین احمدیہ حصہ پنجم میں تحریر فرماتے ہیں : پیشگوئی کر کے فرمایا کہ دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔یعنی میاں عبدالرحمن اور مولوی عبد اللطیف جو کابل میں سنگسار کئے گئے اور ہر ایک جو زمین پر ہے آخر مرے گا۔پران