شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 140 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 140

140 سوگوار اور معاً امید افزا دل کے ساتھ سناتے ہیں۔اگر چہ یہ خبر ایک عرصہ سے اخبارات میں شائع ہو چکی ہے۔لیکن ہم نے مزید تحقیقات اور تصدیق کے خیال سے اس وقت تک خاموشی اختیار کی اور اب جبکہ پورے طور پر اس خبر کی تصدیق ہو چکی ہے۔ہم اس کی اشاعت کی جرات کرتے ہیں۔”عالی جناب اخوندزاده مولا نا مولوی عبد اللطیف صاحب، رئیس اعظم خوست شیخ اجل افغانستان اور سرآمدہ علماء کابل کے نام سے ہمارے ناظرین بخوبی واقف ہیں۔مولوی صاحب موصوف اپنے علم و فضل تقوی وطہارت ، ورع اور خدا ترسی کے لئے کابل اور اس کے نواح میں ایک مشہور و معروف عالم تھے۔یہاں تک کہ در بار کا بل میں آپ کی جو عزت اور عظمت تھی اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ امیر عبدالرحمن کے مرض الموت میں وہ حاضر تھے اور موجودہ امیر صاحب کے سر پر تاج شاہی رکھتے وقت حاضر۔غرض اپنے ملک، اپنی قوم ، اپنے فرمانروا کی نظر میں ہر طرح سے عزت اور خصوصیت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل وکرم سے ان کو حضرت حجتہ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شناخت عطا فرمائی اور صدق دل اور پوری ارادت و نیاز مندی کے ساتھ سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہونے کی عزت بخشی۔۔آپ حضرت امام الملۃ علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور حاضر بھی ہوئے۔دارالامان میں وہ ایک مدت تک رہے اور حضرت اقدس کی پاک سے مستفید ہوئے۔۔۔آخر آپ دار الامان سے ایک پاک جوش اور عقیدت کے ساتھ اپنے وطن مالوف کو تشریف لے گئے اور دربار کابل کے سر بر آوردہ اور ذمہ دار حکام اور آفیسرز کو انہوں نے وہ پاک اور راحت بخش پیغام پہنچایا جو زمینی نہیں بلکہ آسمانی تھا۔اس پیغام میں چونکہ وہ شہزادہ امن (مهدی) کی دعوت اور تبلیغ پر مشتمل تھا مولوی صاحب موصوف نے اپنے ملک میں جہاد کی حرمت کے فتویٰ کی بھی اپنی تقریروں کے ذریعہ اشاعت کی۔کیونکہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آثار و علامات میں سے یہ بھی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے يَضَعُ الْحَرب کے پاک الفاظ میں بیان کی ہے۔